Article image..
(۱۲۱) یستعتبون کا ترجمہ: قرآن مجید میں لفظ یستعتبون تین مقامات پر آیا ہے، اور ایک مقام پر یستعتبوا آیا ہے۔ مختلف ترجموں کو سامنے رکھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو اس سلسلے میں کسی ایک مفہوم پر اطمینان نہیں تھا، اس لیے ایک ہی مترجم کے یہاں ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے ملتے ہیں۔ عربی لغات دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ استعتب کے لفظ میں وسعت ہے۔ اس لفظ کا مطلب فیروزآبادی یوں بیان کرتے ہیں: استَعتَبَہ: أعطاہ العُتبی،کأَعتَبہ، وطَلَبَ الیہ العُتبَی، ضِدٌّ. القاموس المحیط. اس لفظ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی سے کسی کی ناراضگی دور کرنے کو کہا جائے، ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی کسی سے راضی ہوجائے، اور ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی کسی سے اس کی ناراضگی دور کرنے کا موقع مانگے۔ اس تیسرے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا بَعدَ الموتِ مِن مُستَعتَبٍ؛ یعنی مرنے کے بعد ناراضگی دور کرنے کا موقع نہیں رہے گا۔ علامہ ابن منظور اس حدیث کی بہت مناسب تشریح کرتے ہیں: أی لَیسَ بَعدَ المَوتِ مِنِ استِرضاءٍ ، لأَن الأَعمال بَطَلَت، وانقَضَت زَمانُھا، وَمَا بَعدَ الموت دارُ جزاءٍ لَا دارُ عَمَلٍ. لسان العرب۔ جہاں لفظ کے مفہوم میں وسعت ہو وہاں موقع ومحل کے لحاظ سے مناسب مفہوم کی تعیین ضروری ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج