Article image..
Article image..
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ کو دنیا کی اقوام تک اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچانے کا جو منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ دراصل اسی ذمہ داری کا ایک تسلسل ہے جو اس سے پہلے یہود یوں اور مسیحیوں کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں گروہ رفتہ رفتہ راہ راست سے ہٹ گئے اور دین کی اصل اور حقیقی تعلیمات ان کے ہاتھوں بگاڑ کا شکار ہو گئیں۔ مذکورہ دونوں گروہوں سے متعلق قرآن مجید نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان کو سامنے رکھا جائے تو مذہبی اختلافات کے حوالے سے توازن اور اعتدال کا ایک حسین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے جس کی ہمارے دین نے ہمیں تعلیم دی ہے۔ ان سطور میں ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس بات پر غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اپنے پیش رو ان دونوں گروہوں کے متعلق کیا ہدایات دی ہیں اور ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ انبیاء اور صحف سماوی کی طرف نسبت : سب سے پہلی بات تو ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ قرآن نے ان گروہوں کے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے جس کا مطلب ہے اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان رکھنے والے لوگ۔ یہ بڑی اہم اور قابل غور بات ہے، کیونکہ قرآن مجید نے ان دونوں گروہوں پر جو بنیادی تنقید کی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کر دیا ہے اور گمراہی اور انحراف کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود جب قرآن ان کے لیے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بگاڑ اور انحراف کے باوجود آسمانی کتابوں کی طرف ان کی اس نسبت کو اصولی طور پر تسلیم کرتا ہے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج