اہل کتاب سے متعلق اسلام کا زاویہ نظر/ شدت پسندی کا مقابلہ اور ریاستی ترجیحات

محمد عمار خان ناصر
قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ کو دنیا کی اقوام تک اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچانے کا جو منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ دراصل اسی ذمہ داری کا ایک تسلسل ہے جو اس سے پہلے یہود یوں اور مسیحیوں کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں گروہ رفتہ رفتہ راہ راست سے ہٹ گئے اور دین کی اصل اور حقیقی تعلیمات ان کے ہاتھوں بگاڑ کا شکار ہو گئیں۔ مذکورہ دونوں گروہوں سے متعلق قرآن مجید نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان کو سامنے رکھا جائے تو مذہبی اختلافات کے حوالے سے توازن اور اعتدال کا ایک حسین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے جس کی ہمارے دین نے ہمیں تعلیم دی ہے۔ ان سطور میں ہم قرآن وسنت کی روشنی میں اس بات پر غور کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اپنے پیش رو ان دونوں گروہوں کے متعلق کیا ہدایات دی ہیں اور ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ انبیاء اور صحف سماوی کی طرف نسبت : سب سے پہلی بات تو ہمارے سامنے یہ آتی ہے کہ قرآن نے ان گروہوں کے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر اختیار کی ہے جس کا مطلب ہے اللہ کی نازل کردہ کتابوں پر ایمان رکھنے والے لوگ۔ یہ بڑی اہم اور قابل غور بات ہے، کیونکہ قرآن مجید نے ان دونوں گروہوں پر جو بنیادی تنقید کی ہے، وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں اور آسمانی کتابوں کی حقیقی تعلیمات کو مسخ کر دیا ہے اور گمراہی اور انحراف کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود جب قرآن ان کے لیے ’’اہل الکتاب‘‘ کی تعبیر استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بگاڑ اور انحراف کے باوجود آسمانی کتابوں کی طرف ان کی اس نسبت کو اصولی طور پر تسلیم کرتا ہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۲۱) یستعتبون کا ترجمہ: قرآن مجید میں لفظ یستعتبون تین مقامات پر آیا ہے، اور ایک مقام پر یستعتبوا آیا ہے۔ مختلف ترجموں کو سامنے رکھنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ترجمہ کرنے والوں کو اس سلسلے میں کسی ایک مفہوم پر اطمینان نہیں تھا، اس لیے ایک ہی مترجم کے یہاں ایک ہی لفظ کے مختلف مقامات پر مختلف ترجمے ملتے ہیں۔ عربی لغات دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ استعتب کے لفظ میں وسعت ہے۔ اس لفظ کا مطلب فیروزآبادی یوں بیان کرتے ہیں: استَعتَبَہ: أعطاہ العُتبی،کأَعتَبہ، وطَلَبَ الیہ العُتبَی، ضِدٌّ. القاموس المحیط. اس لفظ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی سے کسی کی ناراضگی دور کرنے کو کہا جائے، ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی کسی سے راضی ہوجائے، اور ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کوئی کسی سے اس کی ناراضگی دور کرنے کا موقع مانگے۔ اس تیسرے مفہوم کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا بَعدَ الموتِ مِن مُستَعتَبٍ؛ یعنی مرنے کے بعد ناراضگی دور کرنے کا موقع نہیں رہے گا۔ علامہ ابن منظور اس حدیث کی بہت مناسب تشریح کرتے ہیں: أی لَیسَ بَعدَ المَوتِ مِنِ استِرضاءٍ ، لأَن الأَعمال بَطَلَت، وانقَضَت زَمانُھا، وَمَا بَعدَ الموت دارُ جزاءٍ لَا دارُ عَمَلٍ. لسان العرب۔ جہاں لفظ کے مفہوم میں وسعت ہو وہاں موقع ومحل کے لحاظ سے مناسب مفہوم کی تعیین ضروری ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۴)

مولانا سمیع اللہ سعدی
۲۔ اردو تراجم، شروحات وتعلقات اور درسی افادات وتقریرات: برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والا کام زیادہ تر اردو تراجم وشروحات(عربی شروحات کا بیان پچھلی قسط میں ہوچکا ہے ) اور درسی افادات و تقریرات پر مشتمل ہے ،ان میں درسی افادات و تقریرات زیادہ تعداد میں ہیں ،کیونکہ صحاح ستہ، موطا م امام مالک ،موطا امام محمد اور مشکوۃ المصابیح مدارس دینیہ کے نصاب میں داخل ہیں ،اس لئے ہونہار تلامذہ شیوخ الحدیث کی درسی تقاریر کو منضبط کرتے ہیں ،اور اسے مرتب کر کے افادہ عام کی خاطر شائع کرتے ہیں ۔ برصغیر میں کتب حدیث پر ہونے والے کاموں کا ایک جائزہ لیا جاتا ہے۔ (۱) اردو تراجم و شروحات : کتب حدیث کے تراجم میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ تراجم میں معروف علماء کے تراجم کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں مستند مانے جاتے ہیں۔ حالیہ سالوں میں مختلف مکتبات نے کتب حدیث کے تراجم شائع کیے ہیں جو مختلف مترجمین (اکثر غیر معروف حضرات) نے کیے ہیں۔ اس مجموعے میں ان تازہ تراجم کی کثرت کی وجہ سے ذکر نہیں کیا گیا۔ ان تراجم کے لیے کراچی، لاہور، پشاور کے معروف مطابع اور ہندوستان کے ناشرین کی شائع کردہ فہرستیں ملاحظہ کی جائیں۔ نیز شروح میں ان کا ذکر کیا گیا ہے جو باقاعدہ تالیف کے قبیل سے ہیں، درسی افادات وتقریرات کا ذر مستقل عنوان کے تحت آئے گا ۔ ۔ ۔

فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی
فقہ راوی کی شرط کی بنیاد کیاہے؟ رہ گئی یہ بات کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قلیل الفقہ کیوں کہاگیاہے۔اوران کی روایت کیوں مطلقاً قابل قبول نہیں ہے تواس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں۔ ’’ باوجود اس کے کہ حضرت ابوہریرہ شرف صحابیت میں مشہور ہیں حضورپاک کے ساتھ سفر وحضر میں طویل وقت گزاراہے،صحابہ کرام اوربعد کے لوگوں نے ان کی روایتوں کا قیاس کے ساتھ معارضہ کیاہے۔یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ جب انہوں نے سناکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جس چیز کو آگ نے چھولیاہے اس کو استعمال کرنے کے بعد وضو کرو توانہوں نے کہا کہ اگرمیں گرم پانی سے وضو کروں تو کیامیں پھر سے وضو کروں؟ اس کے علاوہ دیکھئے اگرآپ کی بیوی کو کوئی تیل ہدیہ کرے اوروہ یہ تیل آپ کی مونچھوں کو لگادیں توکیاآپ اس سے وضو کریں گے؟ خلاصہ کلام کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کی روایت کو قیا س سے رد کردیا۔ اس پر ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نہ نے کہا: اے بھتیجے، جب تم سے کوئی حدیث بیان کی جائے تواس کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔اس مثال پر کوئی یہ نہ کہے کہ حضرت ابن عباس نے اس کو دوسری حدیث سے رد کیاہے اوروہ حدیث یہ ہے کہ حضورپاک کے ساتھ دستی کا گوشت لایاگیاتواس کو کھایا اوروضو نہیں کیا، کیونکہ اگران کے پاس نص ہوتاتووہ قیاس سے کام نہ لیتے اور دو حجتوں میں سے زیادہ مضبوط حجت سے اعراض نہ کرتے یاپھر وہ یہ کرتے کہ دوحدیثوں کی تاریخ معلوم کرتے تاکہ ناسخ اورمنسوخ کو جان سکیں یااس حدیث سے گوشت کو خاص قراردیں، لیکن یہ سب نہ کرکے جب انہوں نے قیاس سے کام لیا۔ اور حضرات صحابہ کے درمیان حضرت ابن عباس فقہ وافتاء میں جتنے مشہور تھے، اس مقام تک حضرت ابوہریرہ نہیں پہنچتے ہیں۔ تواس سے ہم نے یہ بات جان لیاکہ انہوں نے روایت سننے کے بعد جب کہ وہ قیاس کے خلاف تھا، غوروفکر سے کام لیا۔اسی طرح حضرت ابن عباس نے جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سناکہ جو کوئی جنازہ کو کاندھادے تو وہ وضو کرے، اس پر انہوں نے کہاکہ کیاخشک لکڑیوں کو ڈھونے سے بھی ہم پر وضو لازم ہوگا؟ ۔ ۔ ۔

دینی مدارس، دہشت گردی اور عالمی پالیسی ساز طاقتیں

ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ
اکثر پالیسی ساز افراد اور ادارے جو فیصلے کرتے ہیں وہ یا تو ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر مبنی ہوتے ہیں یا پھر انٹیلی جنس کی گمراہ کن رپورٹوں پر۔ مسلمانوں کی مذہبی زندگی میں مدارس کا کردار کیا ہے، اگر مجھے اس کی تشریح و وضاحت کا موقع دیا جائے اور مجھے صدر امریکہ، امریکی کانگریس کے ارکان اور دنیا کی کسی بھی حکومت کو مدارس کے تعلق سے مشورہ دینا ہو تو میں اپنی کتاب ’’دینی مدارس:عصری معنویت اورجدید تقاضے‘‘ کا ایک نسخہ اس مکتوب کے ساتھ انھیں ارسال کرنا چاہوں گا: محترم صدر امریکہ اور امریکی کانگریس کے معزز ارکان! تصور کیجیے کہ جنوبی ایشیا میں تعینات امریکی فوج پر یا خدانخواستہ امریکہ کے مرکزی مقام پر ایک ایسا دہشت گردانہ حملہ، جس کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی ہو، کامیاب ہوجائے، تو کیا امریکہ اس کے ردِ عمل میں آکر افغانستان اور پاکستان (افغان۔پاک سرحدی علاقے) میں قائم مدارس کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا؟ یا مدارس کی عمارتوں پر ڈرون حملے کرے گا؟ یہ منظر نامہ یقینی طور پر امکان کے دائرے میں ہے۔ ماضی کے مشاہدات گواہ ہیں کہ امریکہ کو جب کبھی شکست کا زخم لگا تو اس کے اندمال کے لیے امریکی سیاسی قیادت نے کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنانے کو آسان اور ضروری سمجھا۔ چناں چہ Bay of Pigsکی مہم کی ناکامی کے بعد ویتنام کو اور گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد عراق پر حملے کے ذریعہ امریکہ نے اپنی جھینپ مٹانے کی کوشش کی۔ بنا بریں افغان پاک سرحدی علاقے میں ڈرون بموں کے ذریعہ کیے جانے والے ایک پرشور حملے کے امکان کو کاملاً مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے بھی کہ کم درجے کے ڈرون حملے وہاں پہلے سے ہی جاری ہیں۔ بدقسمتی سے انٹیلی جنس کے ذرائع اور گھاگ قسم کے ماہرین نے اپنی شطارت و مہارت کے ساتھ جنوبی ایشیا کے مدارس کی یہ تصویر کشی کی کہ وہ نہ صرف امریکہ کے ازلی دشمن ہیں بلکہ وہ مغرب اور پوری متمدن دنیا کے بدترین دشمن ہیں ۔ ۔ ۔

جنرل باجوہ اور بلوچستان/ دینی مدارس کو درپیش آزمائش / پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

ابو عمار زاہد الراشدی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے پونے دو سو کے لگ بھگ طلبہ کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں تلقین کی ہے کہ وہ مختلف بیرونی ایجنسیوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں اور وطن عزیز کی سلامتی و استحکام اور فلاح و ترقی کے لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ بلوچستان کے شہریوں اور نوجوانوں سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک بہت سے ادارے اور ایجنسیاں بلوچستان کے حوالہ سے مخالفانہ پروپیگنڈا کر کے وطن عزیز پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں جس کا جواب ہمیں متحد اور منظم ہو کر دینا ہوگا۔ محترم باجوہ صاحب کے یہ ارشادات حرف بہ حرف درست ہونے کے ساتھ ساتھ برموقع بھی ہیں کہ بلوچستان کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف بیرونی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے اور سوئٹزرلینڈ میں اس سلسلہ میں آویزاں کیے جانے والے بینروں کے علاوہ بھارتی دانشوروں کا ایک حلقہ اپنی حکومت پر زور دے رہا ہے کہ وہ بلوچستان میں نام نہاد آزادی کی تحریک کو سپورٹ کرے جیسا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے چند دن قبل ایک تقریر میں اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ گزشتہ روز یوٹیوب پر ایک ڈاکومنٹری دیکھنے کا موقع ملا جس میں کسی بھارتی تجزیہ نگار نے سی پیک منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اس سے مبینہ طور پر بھارت کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کیا ہے اور اس کا حل یہ تجویز کیا ہے کہ بھارت بلوچستان کا کارڈ استعمال کرے اور وہاں آزادی کے نام سے اٹھائی جانے والی آواز کو مضبوط کرے۔ بھارتی حکومت کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے جن سوالات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے جواب میں بھی وہ بلوچستان کا حوالہ دیتے ہیں، حالانکہ بلوچستان دیگر علاقوں کی طرح ’’قانونِ آزادی ہند 1947ء ‘‘ کے تحت پاکستان میں شامل ہوا تھا اور کشمیر نے بھی اسی قانون کے تحت پاکستان میں شامل ہونا تھا لیکن بھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے علی الرغم اس پر بزورِ طاقت قبضہ جما لیا جبکہ اس قبضہ کو طوالت دینے میں عالمی قوتوں کے مفادات آج تک کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج