Article image..
(۱۱۱) علقۃ اور مضغۃ کا ترجمہ: قرآن مجید میں علق کا لفظ ایک بار اور علقۃ کا لفظ متعدد بار آیا ہے، دونوں کا مطلب ایک ہے، اور وہ ہے جما ہوا خون، راغب اصفہانی لکھتے ہیں: والعَلَقُ: الدّم الجامد ومنہ: العَلَقَۃُ التی یکون منھا الولد.المفردات. علقہ کی اردو تعبیر کے لیے مترجمین نے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں، جیسے، جنین، لوتھڑا، خون کا لوتھڑا، خون کی پھٹک، خون کی پھٹکی، خون کا تھکا۔ علقہ کے لیے جنین کا لفظ کسی طرح مناسب نہیں ہے، کیونکہ جنین کا عمومی اطلاق عربی میں بھی اور اردو میں بھی پیٹ کے بچے پر ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مرحلے میں ہو، جبکہ اردو میں وہ مضغہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج