ماہنامہ الشریعہ

جلد ۲۸ - شمارہ ۳ - مارچ ۲۰۱۷ء

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۲۸)
ڈاکٹر محی الدین غازی

استاذ القراء حضرت قاری محمد انور قدس اللہ سرہ العزیز
ابو عمار زاہد الراشدی

اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کے فکری تحدیات
ڈاکٹر محمد ریاض محمود

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

DNA کے بارے میں چشم کشا حقائق
مولانا مفتی منیب الرحمن

دیوبند وبریلی: اختلافات سے مشترکات تک
سراج الدین امجد

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت ۔ تکفیری مکتب فکر کے ایک اہم استدلال کا تنقیدی جائزہ

محمد عمار خان ناصر
موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔ یہ نقطہ نظر ہمارے ہاں سب سے پہلے غالباً انگریزی دور اقتدار میں جنگ عظیم اول کے موقع پر اس وقت پیش کیا گیا جب برطانوی فوج میں شامل مسلمانوں کے لیے ترکی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا سوال سامنے آیا۔ تحریک خلافت کے قائدین نے اس پر ایک سخت مذہبی موقف اختیار کیا اور مولانا ابو الکلام آزاد نے اس کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے لکھا کہ ....

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۸)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۰۸) القا ء کا ترجمہ۔ القاء کا مطلب ڈالنا اور رکھنا ہوتا ہے، پھینکنا اس لفظ کی صحیح ترجمانی نہیں کرتا ہے، بعض لوگوں نے جگہ جگہ اس لفظ کا ترجمہ پھینکنا کیا ہے، کہیں کہیں اس سے مفہوم میں فرق نہیں پڑتا، لیکن کہیں تو اس ترجمہ سے مفہوم میں واضح طور پر خرابی آجاتی ہے۔ ہم پہلے وہ آیتیں ذکر کرتے ہیں جہاں القاء کا ترجمہ پھینکنا ہوہی نہیں سکتا ہے، اس لئے کسی نے یہ ترجمہ نہیں کیا ہے، خاص طور سے سید مودودی نے بھی نہیں، جو کہ اکثر جگہ القاء کا ترجمہ پھینکنا کرتے ہیں: (۱) وَأَلْقَی فِی الأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (النحل:۱۵) ’’اس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں‘‘ (سید مودودی) ’’اور اس نے زمین میں لنگر ڈالے ‘‘(احمد رضا خان) (۲) وَأَلْقَی فِی الْأَرْضِ رَوَاسِیَ۔ (لقمان: ۱۰) ’’اس نے زمین میں پہاڑ جمادئے ‘‘(سید مودودی) ....

استاذالقراء حضرت قاری محمدانور قدس اللہ سرہ العزیز

ابو عمار زاہد الراشدی
بعدالحمدوالصلوٰۃ ۔ استاذالحفاظ، استاذا لقراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کاچند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے ۔آپ ؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کے استاذ تھے۔ ہم سب بھائی بہنیں ان کے شاگردہیں۔الحمدللہ نو بھائیوں نے اورتین بہنوں نے حفظ کیا ہے۔ ایک بڑی بہن کے سواباقی سب کے استاذ وہی تھے، جبکہ گکھڑ میں اور گکھڑ کے ارد گرد سیکڑوں حفاظ کے استاذ تھے۔ گکھڑسے افریقہ کے ایک ملک میں تشریف لے گئے، وہاں بھی بیسیوں حفاظ کے استاذ ہیں۔ پھر مدینہ منورہ میں تقریباًپینتیس سال انہوں نے قرآن پاک پڑھایا ہے۔ وہاں بھی سیکڑوں حفاظ نے ان سے قرآن کریم حفظ کیا ہے۔ آج کی تقریب میں ان کے حوالے سے کچھ باتیں عرض کروں گا ...

اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کے فکری تحدیات

ڈاکٹرمحمدریاض محمود
اسلام روحانی اورمادی اعتبارسے ایساانسان دوست دین ہے جس میں تمام طبقات کے لئے امن،محبت، ترقی، خوشحالی، رواداری اوراحترام کی ہدایات ملتی ہیں۔(۱) یوں اسلامی فکروفلسفہ سے وابستہ کسی بھی سیاسی،معاشی یاسماجی نظام میں ظلم، تعصب،جانبداری، حق تلفی یاکسی قسم کے امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں۔اسی اعلیٰ ظرفی اور شانداربصیرت کی کرشمہ سازی تھی کہ مختلف ادوارمیں قائم ہونے والی مختلف علاقوں کی مسلم حکومتوں نے غیرمسلم اقلیتوں کو بڑی فرا خ د لی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ برداشت کیابلکہ ان کی سیاسی حیثیت اورنسلی شناخت کوتسلیم کرتے ہو ئے انہیں مختلف شعبہ ہائے حیات میں بھرپورکرداراداکر نے کا موقع دیا۔مختلف مذاہب کے حاملین سے عدل اورمساوات کی بنیاد پرمعاملات کوطے کیاگیا ....

ماہنامہ ’’ الشریعہ‘‘

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ
1970ء کا آغاز ہوا تو میں میٹرک سے فارغ ہوچکا تھا۔ابھی کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا۔ہرسو سیاست ہی سیاست ہی تھی۔پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کے ڈنکے بج رہے تھے۔جماعت اسلامی کے لوگ ابھی تک انتخابی شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔مسلم لیگ بھی شکستہ دیوار کی مانند گرچکی تھی۔اخبارات میں صرف شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خاں میں شکست دینے والے مفتی محمود کے تذکرے اور ان پر تبصرے شائع ہوتے۔ جمعیۃ علماء اسلام والے خوش تھے کہ ناقابل تسخیر بھٹو کو مفتی محمودنے ڈیرہ اسماعیل خاں میں انتخابی شکست سے دوچار کیا ہے۔گوجرانوالہ میں جناب زاہد الراشدی جمعیۃ کے پلیٹ فارم سے ایک بڑا نام تھا ....

DNAکے بارے میں چشم کشا حقائق

مولانا مفتی منیب الرحمن
گزشتہ سال اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے قرار دیا کہ DNAکی فارنزک لیبارٹری رپورٹ کو حدِّزنا جاری کرنے کے لیے حتمی اور قطعی شہادت (Absolute Evidence)کے طورپر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے عینی شہادت(Eye Witness)کا مطلوبہ شرعی معیار لازمی ہے،ا لبتہ اسے ظنّی شہادت ،قرائن کی شہادت اور تائیدی شہادت کے طورپر لیا جا سکتا ہے اور عینی شہادت کی عدم دستیابی کی صورت میں عدالت مطمئن ہو تو تعزیر۱ًسزا دے سکتی ہے۔ اس پر ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا، لبرل عناصر نے کہرام مچا دیا، ان میں حقوق نسواں اور حقوق انسانی کے نام پر تنظیمیں چلانے والی NGOsاور دیگر فعال عناصرسب شامل ہیں۔چونکہ مغربی ممالک کی اقدارکے پرچارک ان طبقات کو زنا بالرضا (Adultery)پرکوئی اعتراض نہیں ہے، اس لیے ان کا اصرار ہے کہ زنا بالجبر (Rape)کے ثبوت کے لیے DNAکا لیبارٹری ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تواسے حتمی اور قطعی شہادت قرار دے کر اس جرم کے مرتکب پر سزائے موت جاری کردی جائے ....

دیو بند و بریلی : اختلافات سے مشترکات تک

سراج الدین امجد
امت مسلمہ آج جن گونا گوں مسائل کا شکار ہے ان میں ایک فرقہ واریت بھی ہے بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر اس کی تباہ کاریوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور میں یہ الحاد اور بے دینی سے بھی بڑا فتنہ اور عفریت ہے۔ آج اگر ملت اسلامیہ کا بدن لہو لہان ہے تو جہاں اغیار کی ریشہ دوانیاں ہیں، وہیں اپنوں کی کارستانیاں بھی کم نہیں۔ کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ آج شرق سے غرب تک جہاں بھی مسلمان پس رہے ہیں، وہاں عالمی سامراج کے ناپاک عزائم کے ساتھ ساتھ اندرونی خلفشار اور باہمی تنازعات کی شر انگیزی بھی کارفرما ہے۔ گویا خارجی محاذ پر اگر کفر و الحاد کی فتنہ سامانیاں ہیں تو داخلی محاذ پر تکفیری ذہنیت اور فرقہ واریت کی شر انگیزیاں۔یہ مسائل اس وقت مزید گھمبیر اور اندوہناک معلوم ہوتے ہیں جب بین المذاہب تو کجا، خود اہل سنت کے مکاتبِ فکر کے اندربھی مسلکانہ شدت پسندی اور تفسیق و تضلیل کا بازار گرم ہو ....

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج