امام ابوحنیفہ کی اجتہادی فکر سے چند راہنما اصول / جمہوری اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی شرعی حیثیت

محمد عمار خان ناصر
اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو قرآن وسنت کے مقرر کردہ حدود میں اور ان کی منشا کے مطابق استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں شارع کے منشا کو عملی حالات پر منطبق کرنے اور بدلتے ہوئے حالات اور ارتقا پذیر انسانی سماج کا رشتہ قرآن وسنت کی ہدایت کے ساتھ قائم رکھنے کا وظیفہ بنیادی طور پر انسانی فہم ہی انجام دیتا ہے ۔ ۔ ۔
کسی طبقے کو معاشرے میں کیا حیثیت حاصل ہے اور اس کے شہری وسیاسی حقوق کیا ہیں، اس کے تعین میں مجموعی معاشرتی رویوں کے ساتھ ساتھ آئینی وقانونی تصورات کو بھی بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ مسلم اکثریتی معاشروں میں بسنے والی غیر مسلم آبادی کے متعلق کلاسیکی اسلامی تصور یہ تھا کہ وہ ’’اہل ذمہ‘‘ ہیں جن کی حیثیت ایسے شہریوں کی ہے جن کی جان ومال اور مذہب کو ازروئے معاہدہ تحفظ حاصل ہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۲) تاب علی کا مفہوم۔ تاب کے معنی لوٹنے کے ہوتے ہیں، قرآن مجید میں بندوں کے لیے تاب کا فعل الی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع اور انابت کرنا، اس وسیع مفہوم میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا بھی شامل ہے، لیکن لفظ کا اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ اللہ کے لیے تابکا فعل علی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے مہربان ہونا نظر کرم فرمانا۔ اس وسیع مفہوم میں توبہ کی توفیق دینا اور توبہ قبول کرلینا اور معاف کردینا بھی شامل ہے، لیکن اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے ۔ ۔ ۔

رؤیت ہلال کا مسئلہ / سانحہ مستونگ کے شہداء

ابو عمار زاہد الراشدی
رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں ۔ ۔ ۔
اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے ۔ ۔ ۔

امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات وخدمات (۲)

مولانا عبیداختررحمانی
جودوسخا: آپ نے مالدار گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں،یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی مالداروں کی سی گزری اوراس مالداری کے ساتھ اللہ نے آپ کی فطرت میں سخاوت کا مادہ بدرجہ اتم رکھاتھا۔ بسااوقات ایسا بھی ہوا کہ قرضدار قرض ادانہ کرسکا اورقرض خواہ قرضدار کو جیل میں بند کرانے کے لیے لایا اور آپ نے قرض خواہ کو اس کی رقم اپنی جیب سے اداکردی۔ خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں یہ واقعہ نقل کیاہے کہ ایک شخص نے ان کی عدالت میں محمد بن عبادالمہلبی پر چارسو دینار کادعویٰ کیا ۔ ۔ ۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ: ایک قانونی تجزیہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
اس فیصلے پر کئی پہلوؤں سے مباحثہ جاری ہے لیکن قانونی تجزیہ کم ہی کہیں نظر آیا ہے، حالانکہ اصل میں یہ مسئلہ قانونی ہے۔ اس مضمون میں کوشش کی جائے گی کہ اس فیصلے کے متعلق اہم قانونی مسائل کی مختصر توضیح کی جائے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (International Court of Justice/ICJ) کیا ہے؟ سب سے پہلے اس عدالت کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ اس عدالت کے متعلق چند حقائق یہ ہیں : 1۔ یہ عدالت اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی ایک شاخ ہے اور اس عدالت کا ضابطہ (Statute) اقوامِ متحدہ کے منشور (Charter) کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔

قرآن مجید اور اسیرانِ جنگ

عدنان اعجاز
سورہ محمد (۷۴) کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ کے وہ جنگی احکامات مذکور ہیں جو ہجرتِ مدینہ کے مختصراً بعدکفار مکہ سے باقاعدہ آغازِ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو دیے گئے۔ ان میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اہم قانون بھی بیان ہوا ہے۔ آیت کے الفاظ چونکہ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو ایسی صورتوں میں محصور کر دیتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرزِ عمل سے بظاہر محصور دکھائی نہیں دیتے، اس لیے ہمارے فقہا کے لیے یہ آیت ہمیشہ 'مسئلے کا حصہ' (part of the problem) اور محل تاویلات رہی ہے ۔ ۔ ۔

مباحث فطرت واخلاق: بحث کیا ہے؟

محمد زاہد صدیق مغل
"فطرت بطور ماخذ" کی بحث میں فطرت کے ماخذ ہونے کا انکار کرنے والے گروہ پر نقد کرتے ہوئے مختلف احباب غیر متعلق و غلط فہمیوں پر مبنی استدلال پیش کرتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت کردی جائے تاکہ نفس موضوع و بحث واضح ہوسکے اور کم از کم گفتگو تو اصل مدعے پر ہوا کرے۔ پہلی غلطی: اس ضمن میں پہلی غلطی یہ سوال ہوتا ہے: تو کیا آپ اسلام کو دین فطرت نہیں مانتے، یہ بات تو نصوص کے خلاف ہے؟ پھر چند نصوص پیش کرکے یہ ثابت کرنا شروع کردیا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ ۔ ۔

مکاتیب

مولانا عبیداختررحمانی / ڈاکٹر خضر یٰسین
(۱) محترم مدیر الشریعہ زیدمجدکم۔ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ خداکرے مزاج گرامی بعافیت ہو۔ مئی کے شمارہ میں ڈاکٹرعرفان شہزاد کا مضمون بعنوان ’’جہادی بیانئے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار ‘‘پڑھنے کا موقع ملا، پڑھ کر یہی لگاکہ ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کے نام پر ایک طرفہ مضمون لکھاہے ،یعنی ان کے ذہن ومزاج نے پہلے ہی طے کرلیاہے کہ مدارس اورنصاب کو عسکریت پسندی کا ذمہ دارٹھہراناہے تواسی لحاظ سے ثبوت وشواہد اکٹھے کئے ۔ ۔ ۔
(۲) مکرمی جناب ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ علم حدیث کے ایک اہم مسئلے کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا ہے؛علم حدیث میں"حدیث" کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ علم حدیث میں"حدیث" دو شرائط سے مشروط "اصطلاح" ہے، ان میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو وہ "حدیث" نہیں ہوتی ہے۔ اولاً،متعین راوی کا قول ہو۔ ثانیاً ، وہ راوی اپنے اس قول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قول، عمل اور تقریر بیان کرے۔ وہ خبر، حکم اور عمل "حدیث" نہیں ہے جو مذکورہ بالا دونوں شرائط میں سے کسی ایک شرط سے خالی ہو ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج