Article image..
مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سرحدوں میں نئی تبدیلیوں کی بات کافی عرصہ سے چل رہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی یادداشتوں میں بھی اس منصوبے کا ذکر موجود ہے جس میں عراق کو تین حصوں میں تقسیم کر دینے کا پروگرام تھا (۱) سنی عراق (۲) شیعہ عراق (۳) کرد عراق۔ اسی طرح شام اور سعودی عرب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی باتیں مختلف اوقات میں سامنے آتی رہی ہیں۔ عراق اور شام کے مسلح سنی گروپوں سے تشکیل پانے والی ’’داعش‘‘ کے بہت سے منفی کاموں کے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے سامنے آنے سے عراق اور شام کی مختلف ملکوں میں تقسیم کے منصوبے میں وقتی رکاوٹ آگئی ہے۔ اگر داعش قتل و قتال اور تکفیر کے خوارج کے ایجنڈے پر نہ چلی جاتی اور ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ طرز کی بین الاقوامی سازشوں کے جال میں نہ پھنستی تو اس کا یہ مثبت پہلو زیادہ نمایاں ہوتا اور صورتحال یہ نہ ہوتی جو اب نظر آرہی ہے۔ مگر تقدیر کے فیصلوں کے سامنے کس کا بس چلتا ہے؟ ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج