Article image..
ہمارے سیکولراحباب کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مذہب کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق دیکھتے ہیں ،مذہب کے حوالے سے ان کی سوچ ان کی مخصو ص دانش کے تابع ہوتی ہے او ر ان کی یہ دانش صرف تاریخی اسلام تک محدود ہے ، وہ یہ تو دیکھتے ہیں کہ تاریخی تناظر میں اسلام نے کیا کیا غلطیاں کی ہیں لیکن اسلام بذات خود اپنا تعارف کیا کرواتا ہے اور قرآن و سنت میں اسلام کا جو تعارف کروایا گیا ہے اس تک ان احباب کی پہنچ نہیں ہوتی اور یہ مسلمانوں کی غلطیوں کی بھی اسلام کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ سر دست ہم مشال خان کے واقعے کو لیتے ہیں ، مشال کا قتل بلاشبہ ہماری ا جتماعی بے حسی اور ہماری اجتماعی اخلاقیات کا جنازہ تھا جسے مسلمانوں کے ایک گروہ نے سر انجام دے کر ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن پر مہر تصدیق ثبت کر دی ۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ ہمیں اس واقعے پر تجزیہ کرنے سے پہلے چند باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے تھا۔ در اصل ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہ ایک اوسط درجے کا معاشرہ ہے اور ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اوسط درجے کے معاشروں میں شعور، آراء کا اختلاف اور نئی بات کہنے والوں کے لیے اسپیس بہت کم ہوتی ہے ، ایسے معاشرو ں میں نئی روایات، نئی فکر اور نئی بات کے لیے اسپیس بدتریج بنتی ہے۔ معاشرے کا اجتماعی فہم اور شعور چونکہ اس جگہ پر نہیں ہوتا اس لیے کوئی بھی نئی بات خواہ وہ کتنے ہی مضبوط استدلال کے ساتھ کیوں نہ کہی جائے وہ معاشرے کے اجتماعی فہم اور شعور سے بالا تر ہوتی ہے اور اس پر مزاحمت ایک لازمی امر ہے ۔ ارسطو اور سقراط سے لے کے گلیلیو اور نیوٹن تک پوری انسانی تاریخ اس پر شاہد عدل ہے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج