Article image..
فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل، خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں: عقیدہ، اخلاق اور قانون۔ یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلاً یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے ہی متعلق ہے۔ فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان کرتا ہے۔ تاہم، اس شعوری رہنمائی کے اطلاق میں کبھی مغالطہ بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں بحث کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مغالطے، لیکن، بہت کم پیش آتے ہیں۔ ان کم تر پیش پیش آنے والے مغالطوں کی وجہ سے اس حقیقت کا انکار کرنا کہ فطرت، ایمان و عقیدہ، خیر و شر، اور طیبات و خبائث کے لیے معیار نہیں بن سکتی، ایک بدیہی حقیقت کا انکار ہے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج