فہم قرآن کے چند اخلاقی اور لسانی اصول

محمد عمار خان ناصر
قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے، اس کی آیات کی تفسیر وتوضیح کرتے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی منشا اور مدعا متعین کرتے ہوئے کچھ اصول ہیں جو قرآن مجید کے ہر طالب علم کے سامنے رہنے چاہییں اور ان کی پابندی اس بات کی ضمانت دے گی کہ انسان اللہ کی مراد کے زیادہ قریب پہنچنے کے قابل ہو جائے گا۔ ان میں سے کچھ اصول علمی نوعیت کے ہیں اور کچھ اخلاقی اصول ہیں۔ ان کو ملحوظ رکھنے سے یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انسان ہر جگہ ہر معاملے میں کسی بھی قسم کی غلطی کا شکار نہیں ہوگا، ا س لیے کہ بہرحال اللہ کی کتاب کو سمجھنا اور اس کی تفسیر وتوضیح کرنا، اس میں انسانی فہم کا حصہ اور اس کا کردار بہت زیادہ ہے اور انسان کا فہم کبھی کمال کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لیکن بہرحال کچھ اصول ہیں جن کی پابندی سے آدمی یہ اطمینان حاصل کر سکتا ہے کہ وہ قرآن کی تعلیم اور اس کے خاص پیغام کا جو core ہے، کم سے کم اس سے محروم نہیں رہے گا۔ اسی طرح مختلف مقامات پر جہاں ایک سے زیادہ احتمالات ممکن ہیں اور جہاں ایک سے زیادہ تعبیرات اور تشریحات پیش کی جا سکتی ہیں، ان میں آدمی صحت کے قریب تر پہنچ جائے گا۔ اگر ان اصولوں کی دیانت داری کے ساتھ، اور اہلیت کے ساتھ پابندی کی جائے تو اس بات کا اطمینان بڑی حد تک حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۲)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۴) مِلَّۃَ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفاً کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں حنیفا کا لفظ دس بار آیا ہے، اس کے علاوہ حنیف کی جمع حنفاء کا بھی دو مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ پانچ مقامات پر مِلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً آیا ہے، ان پانچوں مقامات پر ترجمہ کرتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ حنیفا اگر نحوی ترکیب کے لحاظ سے حال ہے تو اس کا ذوالحال کیا ہے، یعنی وہ کس کا حال ہے؟، کیونکہ اس کی وجہ سے ترجمہ مختلف ہوسکتا ہے۔ ہم پہلے ان مقامات کے مختلف ترجمے پیش کریں گے، اور اس کے بعد ان ترجموں کے متعلق اپنا جائزہ پیش کریں گے۔ (۱) وَقَالُواْ کُونُواْ ہُوداً أَوْ نَصَارَی تَہْتَدُواْ قُلْ بَلْ مِلَّۃَ إِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (البقرۃ: ۱۳۵) ’’یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے عیسائی کہتے ہیں: عیسائی ہو، تو ہدایت ملے گی اِن سے کہو: ’’نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابراہیمؑ کا طریقہ اور ابراہیمؑ مشرکو ں میں سے نہ تھا‘‘۔ (سید مودودی) ’’یہ (یہودی و نصرانی ) لوگ کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی ہوجاؤ تم بھی راہ پر پڑ جاؤ گے، آپ کہہ دیجئے کہ ہم تو ملت ابراہیمی (یعنی اسلام) پر رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں اور ابراہیم علیہ السلام مشرک بھی نہ تھے‘‘ (اشرف علی تھانوی) ۔ ۔ ۔

مشرق وسطیٰ میں ’’ٹرمپائزیشن‘‘ کے دور کا آغاز

ابو عمار زاہد الراشدی
مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سرحدوں میں نئی تبدیلیوں کی بات کافی عرصہ سے چل رہی ہے۔ سابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی یادداشتوں میں بھی اس منصوبے کا ذکر موجود ہے جس میں عراق کو تین حصوں میں تقسیم کر دینے کا پروگرام تھا (۱) سنی عراق (۲) شیعہ عراق (۳) کرد عراق۔ اسی طرح شام اور سعودی عرب کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی باتیں مختلف اوقات میں سامنے آتی رہی ہیں۔ عراق اور شام کے مسلح سنی گروپوں سے تشکیل پانے والی ’’داعش‘‘ کے بہت سے منفی کاموں کے ساتھ ایک مثبت پہلو بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے سامنے آنے سے عراق اور شام کی مختلف ملکوں میں تقسیم کے منصوبے میں وقتی رکاوٹ آگئی ہے۔ اگر داعش قتل و قتال اور تکفیر کے خوارج کے ایجنڈے پر نہ چلی جاتی اور ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ طرز کی بین الاقوامی سازشوں کے جال میں نہ پھنستی تو اس کا یہ مثبت پہلو زیادہ نمایاں ہوتا اور صورتحال یہ نہ ہوتی جو اب نظر آرہی ہے۔ مگر تقدیر کے فیصلوں کے سامنے کس کا بس چلتا ہے؟ ۔ ۔ ۔

انقلابِ ایران کی متنازعہ ترجیحات

ابو عمار زاہد الراشدی
ایران کے معروف اپوزیشن گروپ ’’قومی مزاحمتی کونسل‘‘ کی چیئرپرسن مریم رجاوی نے گزشتہ دنوں سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والی اسلامی امریکی سربراہی کانفرنس کے فیصلوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ لاہور کے ایک روزنامہ میں 6 جون 2017ء کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق مریم رجاوی نے پیرس میں اپنی پارٹی کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جنگوں اور دہشت گردی کا ماخذ ایران کو قرار دینے کا اعلان حقیقت ہے اور ایران میں ولایت فقیہ پر مبنی سیاسی نظام ہی خطے میں بد امنی اور دیگر تمام مسائل کی جڑ ہے۔ مریم رجاوی کا تعلق مسعود رجاوی کے خاندان سے بتایا جاتا ہے جو شاہ ایران کے دور میں بائیں بازو کی سیاسی جماعت ’’تودہ پارٹی‘‘ کے لیڈر تھے اور شاہِ ایران کے خلاف انقلاب کی جدوجہد کا حصہ تھے۔ بادشاہت کے خلاف انقلاب کی عوامی جدوجہد میں ایران کے مذہبی راہنماؤں کے ساتھ کمیونسٹ اور نیشنلسٹ عناصر بھی شریک تھے مگر کامیابی کے بعد مذہبی راہنماؤں کی قوت کار، نظم و ضبط ، منصوبہ بندی اور بے پناہ عوامی حمایت کے باعث باقی عناصر بتدریج پیچھے ہٹتے چلے گئے اور مذہبی قیادت نے انقلاب کا تمام تر نظم نہ صرف اپنے ہاتھ میں لے لیا بلکہ وہ اب تک اسے کامیابی کے ساتھ چلا بھی رہے ہیں جو ان کے نظریات اور پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود بہرحال ان کا کریڈٹ بنتا ہے ۔ ۔ ۔

تقسیم مسلسل سے گزرتی پاکستانی قوم

محمد حسین
برصغیر کی گزشتہ چند دہائیوں کو دیکھ لیا جائے تو تقسیم کا عمل ہمیں قدم قدم پر پہلے سے زیادہ پرتشدد اور پرتعصب نظر آتا ہے۔ مسلم سلطنتوں کی داخلی خلفشار اور کمزوریوں کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی سے شکست ہوئی جس کے خاتمے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زمام حکومت سنبھالنے کے بعد تقسیم کا عمل پھر سے شروع ہوا۔ پہلے ہندوستانی و برطانوی بنے، اور ہندو مسلم مل کر برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدو جہد کی۔ پھر ہندوستانی بلاک ہندو مسلم میں تقسیم ہو گیا۔ مسلمان بھی دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا اور دوسرا مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے حق میں۔ مسلمانوں کے دوسرے طبقے نے ہندو اکثریتی سماج میں بطور اقلیت مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور اپنی آزادی و خودمختاری کے لیے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ کر جانے والے برطانوی سامراج نے اس خطے کو آبادی کے تناسب سے دو حصوں میں تقسیم کر کے دو الگ آزاد مملکتیں پاکستان اور بھارت بننے کے فارمولے پر اسے اپنی غلامی سے آزاد کر دیا ۔ ۔ ۔

دیوبندی بریلوی اختلافات : سراج الدین امجد صاحب کے تجزیے پر ایک نظر (۱)

کاشف اقبال نقشبندی
نظری آراء کا اختلاف نہ مضر ہے نہ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے، نہ مٹایا جاسکتا ہے۔اختلاف رائے نہ وحدت اسلامی کے منافی ہے نہ کسی کے لیے مضر، اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے جس سے نہ کبھی انسانوں کا گروہ خالی رہا نہ رہ سکتا ہے۔ یہ اختلاف خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بھی ہوتا رہا اور خلفاء راشدین اورعام صحابہ کرامؓ کے عہد میں امور انتظامیہ کے علاوہ نئے نئے حوادث اور شرعی مسائل جن کا قرآن و حدیث میں صراحتاً ذکر نہ تھا ، ان کے استخراج میں جب انہیں اپنی رائے اور قیاس سے کام لینا پڑاتو ان میں اختلاف رائے ہوا جس کا ہونا عقل و دیانت کی بنا پر ناگزیر ہے۔اسی طرح بعد میں تابعین عظام کا عمل بھی ہر ایک اہل علم کے سامنے ہے؛ لیکن صحابہ وتابعین کے اس پورے خیر القرون میں اس کے بعد ائمہ مجتہدین اور ان کے پیروؤں میں کہیں ایک واقعہ ایسا سننے میں نہیں آیا کہ ایک دوسرے کو گمراہ یافاسق کہتے ہوں یاکوئی مخالف فرقہ اور گروہ سمجھ کر ایک دوسرے کی اقتدا کرنے سے روکتے ہوں یا ان اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل یا سب وشتم ، توہین و استہزا کا بازار گرم کرتے ہوں؛بلکہ ان مقدس زمانوں میں ایسا کوئی تصور ہی نہیں تھا ۔ ۔ ۔

فطرت بطور معیار کی بحث

ڈاکٹر عرفان شہزاد
فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل، خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں: عقیدہ، اخلاق اور قانون۔ یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلاً یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے ہی متعلق ہے۔ فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان کرتا ہے۔ تاہم، اس شعوری رہنمائی کے اطلاق میں کبھی مغالطہ بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں بحث کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور درست نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے مغالطے، لیکن، بہت کم پیش آتے ہیں۔ ان کم تر پیش پیش آنے والے مغالطوں کی وجہ سے اس حقیقت کا انکار کرنا کہ فطرت، ایمان و عقیدہ، خیر و شر، اور طیبات و خبائث کے لیے معیار نہیں بن سکتی، ایک بدیہی حقیقت کا انکار ہے ۔ ۔ ۔

مشال خان کا واقعہ، الشریعہ اور سیکولرزم

محمد عرفان ندیم
ہمارے سیکولراحباب کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مذہب کو اپنے نقطہ نظر کے مطابق دیکھتے ہیں ،مذہب کے حوالے سے ان کی سوچ ان کی مخصو ص دانش کے تابع ہوتی ہے او ر ان کی یہ دانش صرف تاریخی اسلام تک محدود ہے ، وہ یہ تو دیکھتے ہیں کہ تاریخی تناظر میں اسلام نے کیا کیا غلطیاں کی ہیں لیکن اسلام بذات خود اپنا تعارف کیا کرواتا ہے اور قرآن و سنت میں اسلام کا جو تعارف کروایا گیا ہے اس تک ان احباب کی پہنچ نہیں ہوتی اور یہ مسلمانوں کی غلطیوں کی بھی اسلام کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ سر دست ہم مشال خان کے واقعے کو لیتے ہیں ، مشال کا قتل بلاشبہ ہماری ا جتماعی بے حسی اور ہماری اجتماعی اخلاقیات کا جنازہ تھا جسے مسلمانوں کے ایک گروہ نے سر انجام دے کر ہمارے اخلاقی دیوالیہ پن پر مہر تصدیق ثبت کر دی ۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ ہمیں اس واقعے پر تجزیہ کرنے سے پہلے چند باتوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے تھا۔ در اصل ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں یہ ایک اوسط درجے کا معاشرہ ہے اور ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اوسط درجے کے معاشروں میں شعور، آراء کا اختلاف اور نئی بات کہنے والوں کے لیے اسپیس بہت کم ہوتی ہے ، ایسے معاشرو ں میں نئی روایات، نئی فکر اور نئی بات کے لیے اسپیس بدتریج بنتی ہے۔ معاشرے کا اجتماعی فہم اور شعور چونکہ اس جگہ پر نہیں ہوتا اس لیے کوئی بھی نئی بات خواہ وہ کتنے ہی مضبوط استدلال کے ساتھ کیوں نہ کہی جائے وہ معاشرے کے اجتماعی فہم اور شعور سے بالا تر ہوتی ہے اور اس پر مزاحمت ایک لازمی امر ہے ۔ ارسطو اور سقراط سے لے کے گلیلیو اور نیوٹن تک پوری انسانی تاریخ اس پر شاہد عدل ہے ۔ ۔ ۔

مکاتیب

مولانا محمد فاروق خان
آپ کے مجلے میں اردو تراجم قرآن کے سلسلے میں قسط وار ایک جائزہ شائع ہورہا ہے، جس میں مترجمین کی خدمات اور ان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے قرآن کے تراجم میں بعض جگہوں پر بشری تقاضوں سے جو تسامح اور غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے صحیح ترجمے سے باخبر کیا گیا ہے۔ مترجمین میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ ، شیخ سعدیؒ ، شاہ عبدالقادرؒ ، شاہ رفیع الدینؒ ، محمد جوناگذھیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ وغیرہ کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اور غلطیوں کی نشاندہی کے سلسلے میں قرآنی نظائر اور علمی دلائل سے کام لیا گیا ہے۔ یہ عظیم خدمت مولانا حافظ محمد امانت اللہ اصلاحی صاحب کے افادات اور رہنمائی کی روشنی میں ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب انجام دے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن اور قرآنی علم کی ایک عظیم خدمت ہے جس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بحمداللہ ہندوپاک دونوں جگہوں پر اس جائزے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس جائزے کے کام کوباحسن طریق انجام دینے کی توفیق عطافرمائے اور قارئین کو اس سے مستفید ہونے کا شرف عنایت کرے ۔ ۔ ۔

علم کلام، فلسفہ تاریخ اور دور جدید کی فکری تحدیات ۔ مدرسہ ڈسکورسز کے تحت تربیتی ورکشاپ کی روداد

حافظ محمد رشید
گزشتہ جنوری میں پاکستان اور انڈیا میں، نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا امریکہ کے ذیلی ادارے the Kroc Institute for International Peace Studies کے زیر اہتمام درس نظامی کے فضلاء کے لیے ’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے عنوان سے ایک آن لائن تربیتی کورس کا آغاز کیا گیا جس میں تقریباً پندرہ فضلاء انڈیا سے اور اتنے ہی پاکستان سے شریک ہیں۔ ہفتہ میں دو دن آن لائن کلاس ہوتی ہے ، کورس کا مقصد درس نظامی کے فضلاء کو تہذیب و تمدن کے تبدیل شدہ ماحول اور جدید سائنسی نظریات و سائنسی ترقی کی وجہ سے پیدا ہونے والے سوالات سے روشناس کروانا اور علمی طور پر ان سوالات کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ کورس کے سرپرست ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ ہیں جو آج کل یونیورسٹی آف نوٹریڈیم کے مختلف اداروں the Kroc Institute for International Peace Studies, the Department of History اور the Keough School of Global Affairs میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج