خاطرات

محمد عمار خان ناصر
دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں کے باہمی روابط: دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے باہمی روابط کا معاملہ ان دنوں اعلیٰ سطحی دیوبندی قیادت کے ہاں زیر بحث ہے اور ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے گذشتہ شمارے میں صدر وفاق مولانا سلیم اللہ خان نے جبکہ ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کے حالیہ اداریے میں مولانا عزیز الرحمن نے اس ضمن میں اپنے خدشات وتحفظات کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ بحث کا فوری تناظر دو واقعات ہیں ۔ ۔ ۔
مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے متوقع مثبت اثرات: سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہ کامیابی ایک بہت بڑے حلقے کو، جو صحیح یا غلط وجوہ سے گزشتہ تین دہائیوں سے حکومتی وسیاسی پالیسیوں سے نالاں تھا اور بڑی حد تک مین اسٹریم کی مذہبی جدوجہد سے کٹ چکا تھا، دوبارہ اس میں واپس لانے اور جمہوری طرز جدوجہد پر اس کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت نے بھی یقیناًایسے عناصر کو اکاموڈیٹ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے جو ہر لحاظ سے درست اور دانش مندانہ ہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۶)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۰۵) من نفس واحدۃ کا ترجمہ: من نفس واحدۃ کی تعبیر قرآن مجید میں چارآیتوں میں آئی ہے،ان میں سے تین آیتوں میں منھا زوجھا کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ عربی تفاسیر میں خلقکم من نفس واحدۃ کا عام طور سے ایک ہی مفہوم ملتا ہے، یعنی ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور خلق منھا زوجھا کے دو مفہوم ملتے ہیں ’’اس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اور اس کی جنس سے اس کے جوڑے کو بنایا‘‘ اردو تراجم میں شاہ عبد القادر کے ترجمہ کو لوگوں نے عام طور سے اختیار کیا ہے جس میں ’’ایک جان سے پیدا کیا‘‘ ۔ ۔ ۔

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی وفات

ابو عمار زاہد الراشدی
حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانیؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاء میں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ ، اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے ۔ ۔ ۔
جنید جمشید کی شہادت: جنید جمشید شہیدؒ اپنے دوستوں اور ماحول سے رخصت ہو کر اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو چکے ہیں مگر ان کی یاد اور تذکرہ کسی نہ کسی حوالہ سے مسلسل چل رہا ہے۔ طیارہ کے حادثہ میں جاں بحق ہونے والے شہداء کا غم قومی سطح پر منایا گیا ہے، وہ سب ہمارا قیمتی سرمایہ تھے اور ان سب کے لیے پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعاگو ہے کہ اللہ رب العزت ان کے ساتھ کرم کا معاملہ فرمائیں اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔
فرزند جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلام: مولانا مسرور نواز جھنگوی کی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان دونوں اچھی اور حوصلہ افزا خبریں ہیں جن پر دینی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جھنگ کی صورتحال میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کیاجا رہا ہے۔ ہمارے جذبات بھی اس حوالہ سے یہی ہیں اور ہم اپنے عزیز محترم مولانا مسرور نواز کو مبارک باد دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۲)

ڈاکٹر محمد ارشد
۶: عورت کی سربراہی: وہ واحد دستوری مسئلہ جس کی بابت اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر (دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی) کے مفتیان کرام کے فتاویٰ کثرت سے دستیاب ہیں وہ مسئلہ عورت کی حکمرانی کا ہے۔ اس امر پر تینوں مکاتب فکر کے ہاں ایک طرح کا اجماع پایا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی جائز نہیں اور اسلامی مملکت ؍حکومت کے سربراہ کا مرد از روئے شریعت مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو ۔ ۔ ۔

’’علوم اسلامیہ میں تحقیق: عصری تناظر ‘‘

حافظ محمد رشید
الشریعہ اکادمی میں 5، 6دسمبر 2016کو اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے اشتراک سے ایک دو روزہ قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا : علوم اسلامیہ میں تحقیق: عصری تناظر ۔ اس ورکشاپ کا مقصد نوجوان محققین کو مختلف سطحوں پر علوم اسلامیہ میں ہونے والے تحقیقی کام کی جہات اور معاصر رجحانات سے روشناس کرانا تھا۔ ورکشاپ میں متنوع موضوعات پر گفتگو ہوئی اور مقررین نے جہاں ملک میں تحقیق اور تحقیقی اداروں کی موجودہ صورتحال پر بات کی، وہیں تحقیق کے ضروری اور نئے میدانوں کی طرف بھی توجہ دلائی ۔ ۔ ۔

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام اسوۂ حسنہ سیمینار

حافظ شفقت اللہ
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۷دسمبر ۲۰۱۶ء کو اسوۂ حسنہ کے عنوان سے ایک سیمینارمنعقد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹرعبدالماجد حمید المشرقی صاحب نے فرمائی۔ خصوصی خطاب کے لئے فاضل نوجوان مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب مدعو کیے گئے۔سیمینار کا آغازاستاذ القراء قاری سعید احمد صاحب کی تلاوت سے ہوا ۔بعد ازاں الشریعہ اکادمی کے طالب علم عبدالرحمن نے نعت رسول مقبولؐ پیش کی ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج