Article image..
(۱۲۴) لأول الحشر کا ترجمہ۔ یہ لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل ایک مقام پر آیا ہے: ہُوَ الَّذِیْ أَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۔(الحشر: 2) مفسرین ومترجمین کو اس کا مفہوم متعین کرنے میں الجھن پیش آئی ہے، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ترجمے دیکھ کر کیا جاسکتا ہے: ’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘ (سید مودودی،’’پہلے ہی حملے‘‘ اس وقت درست ہوتا جب اول حشر یا الحشر الاول ہوتا، اس کی بجائے ’’حملہ کے آغاز ہی میں‘‘ درست ترجمہ ہوسکتا ہے) ’’وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لیے‘‘ (احمد رضا خان، ’’پہلے حشر‘‘ اول الحشر کا ترجمہ نہیں ہوگا) ’’وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلا لشکر جمع کرنے کے وقت نکال دیا ‘‘(احمد علی، ’’پہلا لشکر‘‘ اس وقت درست ہوتا جب الحشر الاول ہوتا) ’’وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشر اول کے لیے‘‘ (امین احسن اصلاحی، لام کو برائے تعلیل ماننے سے ترجمہ کمزور ہوگیا، اول الحشر کا ترجمہ ’’حشر اول‘‘ یعنی موصوف وصفت والا ترجمہ کرنا بھی غلط ہے) ’’وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب (یعنی بنی نظیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا ‘‘(اشرف علی تھانوی، یہ ترجمہ لغت کے اعتبار سے درست نہیں ہے) ۔۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج