Article image..
(16 نومبر 2017ء کو اس موضوع پر فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے طلبہ کے ساتھ کی گئی گفتگو مناسب حذف و اضافے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ )۔ پہلا سوال: تعبیر قانون کی ضرورت کیوں؟ ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہے تو اس کے بعد "تعبیر قانون" یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔ کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا! ۔ جہاں قانون بظاہر خاموش ہو : پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ حالات اور آئندہ پیش آنے والے ممکنہ واقعات سے متعلق ایک جامع قانون بناکر پیش کردے، لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ بسا اوقات ایسے نئے مسائل سامنے آجاتے ہیں جن کے متعلق قانون سازی کے وقت سوچا بھی نہیں گیا ہوتا۔ ایسے حالات میں جب جج کے سامنے ، جس نے مقدمے کے کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا ہے ، کیا آپشن ہیں؟ ایک آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت سے یہ کہہ کر انکار کردے کہ `قانون اس معاملے پر خاموش ہے`۔ (بہ الفاظِ دیگر، غامدی صاحب کی اپروچ اختیار کرتے ہوئے قرار دے کہ یہ معاملہ قانون کا موضوع ہی نہیں ہے !) دوسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے (جو پہلے آپشن ہی کی ایک دوسری صورت ہے) کہ معاملہ مقننہ کی طرف واپس بھیج کر اسے کہے کہ اس موضوع پر قانون سازی کرے۔ تیسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سامنے موجود قانون کی رو سے مقدمے کا فیصلہ کسی ایک فریق کے حق میں کرے ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج