Article image..
اسلامی تصور معاشرت کی رو سے نکاح ایسا رشتہ ہے جو مرد اور عورت کی آزادانہ مرضی اور فیصلے سے قائم ہوتا ہے اور اس کے قائم رہنے کا جواز اور افادیت اسی وقت تک ہے جب تک دونوں فریق قلبی انشراح اور خوش دلی کے ساتھ اس کوقائم رکھنے پر راضی ہوں۔ کسی وجہ سے ناچاقی پیدا ہونے کی صورت میں قرآن مجید نے ہدایت کی ہے کہ دونوں خاندانوں کے ذمہ دار حضرات مل کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں اور موافقت کے امکانات تلاش کریں۔ (النساء، آیت ۳۵) تاہم اگر یہ واضح ہو جائے کہ رشتہ نکاح سے متعلق حدود اللہ کو قائم رکھنا میاں بیوی کے لیے ممکن نہیں تو قرآن نے ہدایت کی ہے کہ ایسی صورت میں اگر طلاق لینے کے لیے بیوی کو شوہر کے کیے ہوئے مالی اخراجات کی تلافی کے لیے کچھ رقم بھی دینی پڑے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں۔ (البقرۃ، آیت ۲۲۹) دوسری جگہ قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر علیحدگی کے فیصلے میں ہی بہتری نظر آ رہی ہو تو فریقین کو مستقبل کے متعلق بے جا خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی وسعت اور حکمت سے دونوں کے لیے مناسب بندوبست کر دے گا۔ (النساء ، آیت ۱۳۰) ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج