رشتہ نکاح میں عورت کا اختیار اور معاشرتی رویے / تاریخ اور روایت کی معروضی تعبیر

محمد عمار خان ناصر
اسلامی تصور معاشرت کی رو سے نکاح ایسا رشتہ ہے جو مرد اور عورت کی آزادانہ مرضی اور فیصلے سے قائم ہوتا ہے اور اس کے قائم رہنے کا جواز اور افادیت اسی وقت تک ہے جب تک دونوں فریق قلبی انشراح اور خوش دلی کے ساتھ اس کوقائم رکھنے پر راضی ہوں۔ کسی وجہ سے ناچاقی پیدا ہونے کی صورت میں قرآن مجید نے ہدایت کی ہے کہ دونوں خاندانوں کے ذمہ دار حضرات مل کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں اور موافقت کے امکانات تلاش کریں۔ (النساء، آیت ۳۵) تاہم اگر یہ واضح ہو جائے کہ رشتہ نکاح سے متعلق حدود اللہ کو قائم رکھنا میاں بیوی کے لیے ممکن نہیں تو قرآن نے ہدایت کی ہے کہ ایسی صورت میں اگر طلاق لینے کے لیے بیوی کو شوہر کے کیے ہوئے مالی اخراجات کی تلافی کے لیے کچھ رقم بھی دینی پڑے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں۔ (البقرۃ، آیت ۲۲۹) دوسری جگہ قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر علیحدگی کے فیصلے میں ہی بہتری نظر آ رہی ہو تو فریقین کو مستقبل کے متعلق بے جا خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی وسعت اور حکمت سے دونوں کے لیے مناسب بندوبست کر دے گا۔ (النساء ، آیت ۱۳۰) ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۷)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۲۴) لأول الحشر کا ترجمہ۔ یہ لفظ قرآن مجید میں مندرجہ ذیل ایک مقام پر آیا ہے: ہُوَ الَّذِیْ أَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۔(الحشر: 2) مفسرین ومترجمین کو اس کا مفہوم متعین کرنے میں الجھن پیش آئی ہے، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل ترجمے دیکھ کر کیا جاسکتا ہے: ’’وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں اْن کے گھروں سے نکال باہر کیا‘‘ (سید مودودی،’’پہلے ہی حملے‘‘ اس وقت درست ہوتا جب اول حشر یا الحشر الاول ہوتا، اس کی بجائے ’’حملہ کے آغاز ہی میں‘‘ درست ترجمہ ہوسکتا ہے) ’’وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لیے‘‘ (احمد رضا خان، ’’پہلے حشر‘‘ اول الحشر کا ترجمہ نہیں ہوگا) ’’وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلا لشکر جمع کرنے کے وقت نکال دیا ‘‘(احمد علی، ’’پہلا لشکر‘‘ اس وقت درست ہوتا جب الحشر الاول ہوتا) ’’وہی ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں اہل کتاب میں سے کفر کیا، ان کے گھروں سے حشر اول کے لیے‘‘ (امین احسن اصلاحی، لام کو برائے تعلیل ماننے سے ترجمہ کمزور ہوگیا، اول الحشر کا ترجمہ ’’حشر اول‘‘ یعنی موصوف وصفت والا ترجمہ کرنا بھی غلط ہے) ’’وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب (یعنی بنی نظیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا ‘‘(اشرف علی تھانوی، یہ ترجمہ لغت کے اعتبار سے درست نہیں ہے) ۔۔ ۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۵)

مولانا سمیع اللہ سعدی
پانچویں جہت :اعجازِحدیث : معاصر سطح پر حدیث کے حوالے سے اعجازِ حدیث یا اعجازِ سنت کی نئی اصطلاح رائج ہوئی ہے۔ اعجاز کی اصطلاح متقدمین کے ہاں عموماً قرآن پاک کے ساتھ خاص تھی۔ عصر حاضر میں قرآن پاک کے اعجاز اور اس کی وجوہ پر قابل قدر کام ہوچکا ہے، اسی کام کو بعض حضرات نے حدیث نبوی کی طرف متعدی کیا، اور اعجاز کی جن وجوہ کا بیان اعجاز قرآن کے ضمن میں ہوتا تھا، انہی کو حدیث پر منطبق کیا جانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث مبارکہ جو بلفظہا ثابت ہیں،بلا شبہ بلاغت و فصاحت کے اعلیٰ معیار پر ہیں، لیکن کلام رسول (جو اگرچہ وحی غیر متلو پر مبنی ہے )کو قرآن پا ک کی طرح معجز قرار دینا بالکل نئی روش ہے۔ اعجاز کی اصطلاح کو حدیث پر لاگو کرنا علمی اعتبار سے کتنا درست ہے،یہ ایک مستقل بحث ہے جسے سر دست چھوڑتے ہیں۔ ذیل میں ہم اعجاز حدیث پر ہونے والے کاموں کا ایک جائزہ لیتے ہیں : (۱)حدیث کا لغوی و ادبی اعجاز: کلام نبوی کے مختلف اسالیب، ان اسالیب میں مستور بلاغی نکات اور اس کے ادبی پہلووں پر کافی زیادہ کام ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے توانا آواز معروف ادیب مصطفی صادق رافعی کی ہے ،جنہوں نے اعجاز القرآن الکریم و البلاغۃ النبویہ لکھ کر کلام نبوی کے ادبی اسالیب پر دل نشین گفتگو کی۔ اس کے علاوہ معروف عالم عبد الرحمان حبنکہ نے ایک ضخیم کتاب روائع من اقوال الرسول: دراسات لغویۃ فکریۃ وادبیۃ کے نا م سے لکھی جو دار القلم دمشق سے شائع ہوئی ہے۔ معروف ادیب محمد بن لطفی الصباغ نے التصویر الفنی فی الحدیث النبوی کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ہے جس میں حدیث نبویہ کے مختلف اسالیب پر گفتگو کی ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر یہ کتب قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔

تعبیر قانون کے چند اہم مباحث

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
(16 نومبر 2017ء کو اس موضوع پر فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے طلبہ کے ساتھ کی گئی گفتگو مناسب حذف و اضافے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ )۔ پہلا سوال: تعبیر قانون کی ضرورت کیوں؟ ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہے تو اس کے بعد "تعبیر قانون" یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔ کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا! ۔ جہاں قانون بظاہر خاموش ہو : پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ حالات اور آئندہ پیش آنے والے ممکنہ واقعات سے متعلق ایک جامع قانون بناکر پیش کردے، لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ بسا اوقات ایسے نئے مسائل سامنے آجاتے ہیں جن کے متعلق قانون سازی کے وقت سوچا بھی نہیں گیا ہوتا۔ ایسے حالات میں جب جج کے سامنے ، جس نے مقدمے کے کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا ہے ، کیا آپشن ہیں؟ ایک آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت سے یہ کہہ کر انکار کردے کہ 'قانون اس معاملے پر خاموش ہے'۔ (بہ الفاظِ دیگر، غامدی صاحب کی اپروچ اختیار کرتے ہوئے قرار دے کہ یہ معاملہ قانون کا موضوع ہی نہیں ہے !) دوسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے (جو پہلے آپشن ہی کی ایک دوسری صورت ہے) کہ معاملہ مقننہ کی طرف واپس بھیج کر اسے کہے کہ اس موضوع پر قانون سازی کرے۔ تیسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سامنے موجود قانون کی رو سے مقدمے کا فیصلہ کسی ایک فریق کے حق میں کرے ۔ ۔ ۔

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ بحران / دینی مدارس عالمی تناظر میں

ابو عمار زاہد الراشدی
ملک کے انتخابی قوانین میں ترامیم کا بل پاس ہونے پر اس میں ختم نبوت سے متعلق مختلف دستوری و قانونی شقوں کے متاثر ہونے کی بحث چھڑی اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ دینی حلقوں اور سوشل میڈیا میں بھی خاصی گرما گرمی کا ماحول پیدا ہوگیا تو حکومت نے عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کو سابقہ پوزیشن میں بحال کرنے کا بل اسمبلی میں پاس کر لیا۔ مگر دفعہ ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں مطالبہ جاری ہے اور حکومتی حلقے یقین دلا رہے ہیں کہ ان کو بھی عوامی مطالبہ کے مطابق صحیح پوزیشن میں لایا جائے گا۔ اس حوالہ سے اپنے احساسات کو تین چار حوالوں سے عرض کروں گا: ایک یہ کہ حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل طویل پارلیمانی پراسیس سے گزر کر ہوا اور اس دوران ایک آدھ دفعہ توجہ دلانے کے علاوہ کسی کو اندازہ نہیں ہوا کہ یہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے صحیح کہا ہے کہ یہ ہم سب کی اجتماعی غفلت سے ہوا ہے، مگر یہ بات بہرحال توجہ طلب ہے کہ یہ سب کچھ آخر کیوں ہوا ہے اور ہمارے پارلیمانی ماحول میں حساس قومی و دینی معاملات کے حوالہ سے اس قدر بے پروائی کیوں پائی جاتی ہے۔ یہ تمام دینی جماعتوں اور پارلیمانی حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ دوسری بات اس سے زیادہ سنگین ہے کہ شق ۷ بی اور ۷ سی کے بارے میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ انتخابی قوانین کے حالیہ ترمیمی بل کے موقع پر نہیں بلکہ اس سے قبل ۲۰۰۲ء کے دوران جنرل پرویز مشرف کی نافذ کردہ ترامیم سے متاثر ہوئی تھیں اور گزشتہ پندرہ سال سے اسی کیفیت میں چلی آرہی ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو یہ صرف لمحہ فکریہ نہیں بلکہ المیہ ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ان قانونی شقوں میں رد و بدل کا معاملہ پندرہ سال تک مسلسل ابہام میں رہا ہے اور ملک کی دینی، سیاسی اور پارلیمانی جماعتوں میں سے کسی کو احساس نہیں ہوا کہ یہ کیا کچھ ہوگیا ہے۔ میں خود تحریک ختم نبوت کے شعوری کارکنوں میں شمار ہوتا ہوں، لیکن میرے پاس اس حیرت اور افسوس کا کوئی جواب نہیں ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کے ساتھ اس سنگین واردات کا مجھے بھی علم نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔

سرسید اور ان کے روایت پسند مخالفین

محمد ابوبکر
عالمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں گذشتہ دنوں سرسید احمد خان کے حوالے سے ایک سیمینار وقوع پذیر ہوا۔ ایک سیشن کا کلیدی خطبہ جناب احمد جاوید نے دیا۔ میں دلی خواہش کے باوجود اس تقریب میں شریک نہ ہو سکا۔بعد ازاں فیس بک پر احمد جاوید صاحب کے خطاب کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ خورشید ندیم نے ایک کالم میں اس خطاب کا خلاصہ پیش کیا۔جاوید صاحب کی شخصی تواضع اور شائستگی کے برملا اعتراف کے باوجودخورشید ندیم ان کے پیش کردہ معروضات سے غیر مطمئن نظر آئے، اگرچہ انہوں نے اس پرکوئی تجزیہ پیش نہ کیا۔اظہار الحق صاحب نے دو کالمز میں اس تقریب کو موضوع بنایا، لیکن جذباتیت میں بہہ گئے جس سے موضوع تشنہ رہا۔ محمد دین جوہر صاحب نے ایک جوابی کالم میں جاوید صاحب کے خطبے کی تفہیم پیش کی اورسرسید پربھی گفتگو فرمائی۔ ان بزرگان سے ہمارا نیاز مندی کا رشتہ ہے اور یہی رشتہ کچھ زیادہ شدت کے ساتھ سرسید کی ذات سے بھی ہے۔ یہ تحریر اسی باہمی مناسبت کا اظہارہے جس میں نیاز مندی بھی ہے اور ناز آفرینی بھی۔ سرسید ہماری جدید تاریخ کا نقطہ آغاز ہیں اور ان کی اس حیثیت سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ سرسید کی شخصی عظمت اور ان کے کار نمایاں کی تاریخی اہمیت سے انکار ان کے مخالفین کے بس میں بھی نہیں ہے۔سرسید کے تمام ناقدین انہیں ہندوستان میں جدید تہذیب کا نقیب قرار دیتے ہیں۔ سرسید اور جدید تہذیب کا باہمی رشتہ ایک پیچیدہ موضوع ہیاورسرسید کے تمام مخالفین اس مخصوص مسئلہ پر رائے قائم کرنے کے بعد ہی آگے بڑھتے ہیں۔ چنانچہ ملائیت نے سرسید کو جدید تہذیب کا پٹھو اور ایجنٹ قرار دیا جبکہ اہل روایت کے نفیس طبقے نے سرسید کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے اپنے اعتراض کو مختلف شکل میں پیش کیا۔ ان حضرات کے نزدیک سرسید اپنی قوم کے حقیقی خیرخواہ تھے اور یہ جان چکے تھے کہ اب جدید تہذیب کو اپنائے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔ گویا سرسید کی نیت پر شک ممکن نہیں ہرچند ان کی عملی تدبیر قوم کے حق میں مضر ثابت ہوئی۔ سرسید کے ان روایت پسند مخالفین کا ایک مکمل تناظر موجود ہے جو اکبر آلہ آبادی ، حسن عسکری اور سلیم احمد سے ہوتا ہوا احمد جاوید اور جوہر صاحب تک آتا ہے۔ہمارا مکالمہ اسی روایت کی مجموعی فکر کے ساتھ ہے ۔ ۔ ۔

ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (گوجرانوالہ کے ممتاز دینی تعلیمی اداروں کا مختصر تعارف ۔ ۱)

پروفیسر غلام رسول عدیم
( زیرِ نظر مقالہ، جو گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے ادبی مجلہ ’’مہک‘‘ کی خصوصی اشاعت کے لیے لکھا گیا، دو خصوصیات سے زیادہ قابلِ التفات ہے: (۱) یہ کم وبیش ۳۰ برس پہلے کا لکھا ہوا ہے۔ ان مدارس دینیہ کے ماضی کی جھلک جھمک ، قارئین کو ماضی کے دریچوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرے گی اور ان کے ماضی وحال کا یوں بہتر موازنہ کر سکیں گے۔ (۲) راقم ہر جگہ جا کر رُو در رُو مدرسے کی انتظامیہ اور اساتذہ کرام سے مستفید ہوا ۔ یوں یہ تحریر محض سماعی اور بالواسطہ معلومات کا نہیں ، شفاہی اور Direct Approachکا درجہ رکھتی ہے۔ عدیم)۔ تعلیم وہ عظیم کام ہے جس پر خداکے سب سے زیادہ برگزیدہ بندے مامور ہوئے۔ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء اس منصبِ جلیل پر فائز رہے ہیں اور تعلیم وہ اعلیٰ کام ہے جس کے ذریعے رسولانِ برحق کے سچے فرمانبرداروں نے ہر دور میں نورِ نبوت سے فیضیاب ہو کر اپنی زندگیوں کو منور کیا۔ فضیلت علم کے باب میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں خاصا وقیع مواد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسانی زندگی مختلف خانوں میں بٹتی گئی تو تعلیم وتعلم کا عمل بھی الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ایک طرف دنیوی علوم کی مہارت ایک ناگزیر ضرورت خیال کی گئی تو دوسری طرف دینی علوم کا بھی برابر چرچا رہا۔ ہمارے عظیم مفکرین نے تقسیمِ علوم میں بڑی دانش و بینش سے کام لے کر معاشرے میں توازن اور ہم آہنگی کی راہیں تلاش کیں ۔ مثال کے طور پر امام غزالیؒ نے علم کی جو تقسیم کی ہے وہ یوں ہے ۔ ۔ ۔

دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات ونتائج

حافظ عبد الغنی محمدی
۱۴ نومبر ۲۰۱۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ اسلام آباد کے اشتراک سے مغل محل گوجرانوالہ میں ’’مدارس دینیہ میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں پچاس کے قریب دینی مدارس کے سینئر اساتذہ اور منتظمین نے شرکت کی، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد اور دار العلوم کبیر والا کے استاذ الحدیث مولانا مفتی حامد حسن نے مختلف سیشنز کی صدارت کی۔ نقابت کے فرائض الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے جوائنٹ سیکرٹری حافظ محمد رشید اور اقبال انسٹی ٹیوٹ کے نمائندہ مولانا محمد یونس قاسمی نے انجام دیے۔ موضوع کی مناسبت سے راقم نے بعض نکات جو تحریری طور پر منتظمین کو پیش کیے گئے، حسب ذیل ہیں: (۱) ہم کوئی بھی کام مجبوری کے حالات میں کرتے ہیں، سر سے پانی گزرنے سے قبل ہم منصوبہ بندی سے کسی بھی چیز کو اختیار نہیں کرتے۔ عصری تعلیم کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح ہے۔ ہم آج تک عصری تعلیم کے حوالے سے مختلف تجربات سے گزر رہے ہیں، کوئی حتمی منصوبہ بندی ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قیام پاکستا ن کے بعد ہم منصوبہ بندی سے کوئی جامع تعلیمی نظام وضع کرتے جس میں ہمارے فضلا ء دین، دنیا اور معیشت و مذہب دو نوں کو جمع کر سکتے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا۔ آج سے دس ، پندرہ سال قبل مجبوری کی حالت میں بعض مدارس نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کے تجربات کیے اور پھر رفتہ رفتہ ان کو دیگر مدارس بھی اختیار کرتے گئے اور اب ہم اس نظام تعلیم کو ہی اب ہم اپنا مستقل سمجھ بیٹھے ہیں اور اس میں ہی مزید پیوند کار ی کرتے جا رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح نظام چلانا بہت مشکل ہے۔ دونوں تعلیموں کے تقاضے بیک وقت نباہنا خاصا مشکل ہے ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج