ماہنامہ الشریعہ

جلد ۲۸ - شمارہ ۸ - اگست ۲۰۱۷ء

قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہ
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)
مولانا محمد رفیق شنواری

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام
ابو عمار زاہد الراشدی

دیوبندی بریلوی اختلافات ۔۔۔ ایک نظر (۲)
کاشف اقبال نقشبندی

Article image..
(۱۱۵) مُلک کا ترجمہ۔ عربی میں مُلک کا مشہور معنی بادشاہت، اقتدار اور حکمرانی ہے، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: والاسم المُلکُ، والموضع مَمْلکَۃ. اردو میں ملک کا مشہور معنی دیس اور سلطنت ہے، عربی کے لفظ ملک کا اردو میں بھی ملک ترجمہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، بلکہ بادشاہت ، اقتدار اور حکمرانی جیسی تعبیر مناسب معلوم ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ملک کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر وبیشتر مقامات پر اس کا ترجمہ بادشاہی اور حکمرانی کیا گیا ہے، لیکن بعض مقامات پر بہت سارے مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ مشہور ومعروف استعمالات کا لحاظ کیا جائے تو ہر مقام پر ملک کا ترجمہ اقتدار، بادشاہی اور حکمرانی زیادہ مناسب ہے۔ ذیل میں ایسی کچھ آیتیں ذکر کی جاتی ہیں جہاں بعض مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے: (۱) قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاءُ (آل عمران: ۲۶) ۔ ۔ ۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج