ماہنامہ الشریعہ

جلد ۲۸ - شمارہ ۸ - اگست ۲۰۱۷ء

قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہ
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۳۳)
ڈاکٹر محی الدین غازی

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)
مولانا محمد رفیق شنواری

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام
ابو عمار زاہد الراشدی

دیوبندی بریلوی اختلافات ۔۔۔ ایک نظر (۲)
کاشف اقبال نقشبندی

قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہ

محمد عمار خان ناصر

قرآن کریم نے انسانی نفس کو اور اس کی پیچیدگیوں اور مسائل کو کیسے بیان کیا ہے؟ نفس انسانی کے میلانات کی صحیح رخ پر تشکیل ہو اور وہ غلط راستے سے محفوظ ہو کر راہ راست پر آسکے، اس کے لیے ہمیں قرآن پاک سے کیا رہنمائی ملتی ہے؟ یہ آج کی گفتگو کا عنوان ہے۔ اگر قرآن کریم کی ساری تعلیم کو نفس انسانی کے حوالے سے ہم ملخص کرنا چاہیں تو دو تین نکات کی صورت میں اس کوبیان کیا جا سکتا ہے۔ پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ کیا ہے؟ ایک تو اس کائنات سے متعلق اور اس کائنات کے مالک سے متعلق اور بطور ایک مخلوق کے خود انسان سے متعلق کچھ ایسے حقائق کی یاد دہانی اور تذکیر جن کو جاننا اور ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا انسان کی نجات کے لیے ضروری ہے۔ الحمد سے لے کر الناس تک آپ قرآن کے سارے مطالب کا خلاصہ نکالیں تو بنیادی نکتہ یہی ہوگا۔ انسان کو یہ بتایا جائے، اس کو یہ رہ نمائی فراہم کی جائے کہ اس دنیا اور اس کائنات سے متعلق اور خود انسان سے متعلق وہ کون سے بنیادی حقائق ہیں جن کی صحیح معرفت انسان کی نجات کے لیے، اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ حقائق جو بیان کیے گئے، ان کا مخاطب نفس انسانی ہے۔ یہ حقائق جس کو سمجھانے کے لیے بیان کیے گئے ہیں، وہ انسان یعنی نفس انسانی ہے ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۱۵) مُلک کا ترجمہ۔ عربی میں مُلک کا مشہور معنی بادشاہت، اقتدار اور حکمرانی ہے، امام لغت جوہری کے الفاظ میں: والاسم المُلکُ، والموضع مَمْلکَۃ. اردو میں ملک کا مشہور معنی دیس اور سلطنت ہے، عربی کے لفظ ملک کا اردو میں بھی ملک ترجمہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ہے، بلکہ بادشاہت ، اقتدار اور حکمرانی جیسی تعبیر مناسب معلوم ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ملک کا لفظ متعدد مقامات پر آیا ہے، اور اکثر وبیشتر مقامات پر اس کا ترجمہ بادشاہی اور حکمرانی کیا گیا ہے، لیکن بعض مقامات پر بہت سارے مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے۔ مشہور ومعروف استعمالات کا لحاظ کیا جائے تو ہر مقام پر ملک کا ترجمہ اقتدار، بادشاہی اور حکمرانی زیادہ مناسب ہے۔ ذیل میں ایسی کچھ آیتیں ذکر کی جاتی ہیں جہاں بعض مترجمین نے ملک کا ترجمہ ملک کیا ہے: (۱) قُلِ اللّٰہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِیْ الْمُلْکَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاءُ (آل عمران: ۲۶) ۔ ۔ ۔

دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی
حدیث اسلامی شریعت کا دوسرا اساسی ماخذ ہے۔ حدیث اور اس کے متعلقات پر پہلی صد ی ہجری سے لے کر آج تک بلا تعطل کام جاری ہے اور بلا شبہ امت کے بہترین دماغوں نے علم حدیث کے بے شمار پہلووں پر کام کیا ہے۔ علم حدیث کی تاریخ میں دور جدید بعض وجوہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کے دور زوال میں علم حدیث مسلم اور غیر مسلم مفکرین کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ اس مرکزیت کے متعدد اسباب ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے مستقل مضمون درکار ہے ۔اس مضمون میں ہم دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے متنوع کام کا ایک تعارفی جائزہ لیں گے۔ تعارفی جائزے سے پہلے موضوع سے متعلق چند تمہیدی باتیں پیش خدمت ہیں : ۱۔ اس مقالے میں دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس پر بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دور جدید سے کیا مراد ہے؟اور اس کی زمانی تحدید کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم امت کا دور زوال اور مغرب کی بیداری کا زمانہ عمومی طور پر دور جدید کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)

مولانا محمد رفیق شنواری
اپنے اہل خانہ کے بعد طالب علم جس شخصیت سے زیادہ متا ثر ہوتا ہے، وہ اس کا استاد ہے۔ طالب علم اپنے استاد سے تہذیبی اقدار اور اخلاقیات کے وہ اسالیب سیکھتا ہے جو اس کی زندگی کا رُخ بدل دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ استاد کی ’’شخصیت‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ آسان لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’شخصیت‘‘ سے مراد اس کا رویہ اور ظاہری تصویر مثلاً لباس، چال ڈھال، لب و لہجہ اور برتاؤ ہے۔ ’’مثالی‘‘ کا سابقہ ساتھ لگا کر استاد یعنی ’’مثالی استادکی شخصیت‘‘ کے مفہوم میں چند دیگر امور بھی شامل ہوتے ہیں۔ استاد کی شخصیت تب کامل ہوگی جب اعلیٰ اخلاق، حسین ظاہر ی تصویر کے ساتھ تدریسی عمل میں اخلاصِ نیت، ذاتی شوق و دلچسپی اور تدریسی عمل کے ذریعے طالبِ علم کی اصلاح و تربیت کا اور اسی طرح مثالی طلبہ کے ذریعے پورے معاشرے کی تعمیر کا جذبہ شامل ہو ۔ ۔ ۔

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

ابو عمار زاہد الراشدی
نفاذِ اسلام کے فکری مسائل میں دستور سازی، قانون سازی اور معاہدہ عمرانی (سوشل کنٹریکٹ) کی اصطلاحات علمی و فکری حلقوں میں مسلسل زیربحث ہیں اور ان کے حوالہ سے مختلف افکار و نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی صورت میں اسلامی احکام و قوانین کا وسیع ترین ذخیرہ موجود ہے اس لیے کسی قسم کی دستور سازی، قانون سازی اور عمرانی معاہدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اور چونکہ ایک اسلامی ریاست قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی ہدایات کے مطابق مملکت و حکومت کا نظام چلانے کی پابند ہے اس لیے مزید قانون سازی محض تکلف ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ جب سے قومی ریاستوں کا دور چلا ہے تب سے کسی بھی ریاست کے لیے دستور سازی اور قانون سازی ایک ناگزیر امر کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور ریاست کے شہریوں کے درمیان معاشرت کے بنیادی اصولوں پر اتفاق رائے کے اظہار کے لیے سوشل معاہدہ اس کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔

دیوبندی بریلوی اختلافات ۔۔۔ ایک نظر (۲)

کاشف اقبال نقشبندی
تقدیس الوکیل پر ایک نظر: صاحب مضمون نے جس دوسری کتاب کا ذکر کیا ہے اور جس کے پڑھنے کی قارئین کو تلقین کی ہے، وہ ہے’’ تقدیس الوکیل‘‘۔ کتاب کے متعلق کچھ لکھنے سے قبل اس کے پس منظر کا جاننااشد ضروی ہے۔ بہاولپور میں نواب آف بہاولپور نے جامعہ عباسیہ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کررکھا تھا۔ نواب صاحب آف بہاولپور خواجہ غلام فریدؒ چاچڑاں شریف والے کے مرید تھے۔نواب صاحب نے خواجہ ؒ صاحب کو مشورہ دیاتھا کہ صدر مدرس دیوبند سے منگوائیں ۔ یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ علمی حلقوں میں آج کی طرح اس وقت بھی دیوبند ہی کانام چلتا تھا۔ چنانچہ مولانا خلیل احمد سہارنپوری شارح ابو داؤدجامعہ عباسیہ تشریف لائے۔آپ کے یہاں آنے سے علمی زندگی میں بہار آگئی۔ علاقہ کے بعض علماء حسد کی آگ میں جلنے لگے اور نواب صاحب آف بہاولپورکو اس پہلو سے بدگمان کیا کہ آپ کی علمائے دیوبند سے وابستگی آپ کو انگریز حکومت کے ہاں مشکوک بنا دے گی اور ہمارے سیاسی و سماجی مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے ، آپ ان سے ہر طریق سے بچیں ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج