Article image..
(کسی ایک فقہی مذہب کی پابندی اور مختلف مذاہب کے مابین تلفیق کے حوالے سے فیس بک پر ہونے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی توضیحات) ۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ میرے استاد محترم نیازی صاحب اور مجھے تلفیق پر جو اعتراض ہے، وہ اس بات پر نہیں ہے کہ مختلف مذاہب سے آرا کیوں اکٹھی کی جارہی ہیں؟ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ آرا اکٹھی کی جارہی ہیں یہ فکر کیے بغیر کہ ان آرا کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں، وہ آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں؟ اگر اصولی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے اور اصولی تضادات دور کیے جائیں ، تو بے شک آرا اکٹھی کرکے نئی رائے قائم کی جائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ فقہائے کرام نے مذاہب کی تشکیل اسی طرح کی ہے۔ امام محمد ، مثال کے طور پر ، امام ابوحنیفہ کے شاگرد رہے ، پھر امام ابویوسف کے شاگرد رہے، پھر امام مالک اور امام اوزاعی سے استفادہ کیا ، اور پھر انھوں نے علیٰ وجہ البصیرت ایک موقف اختیار کیا۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج