خاطرات

محمد عمار خان ناصر
مکالمہ کیوں ضروری ہے؟ کسی بھی معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین عملی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا موجود ہو ۔ ۔ ۔
مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو: فرقہ واریت کی اصطلاح عموماً اس مذہبی تقسیم کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے جس کا اظہار مختلف گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ اور اپنے اپنے وابستگان میں دوسروں کے خلاف مذہبی بنیاد پر منافرت پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ: مذہبی تعبیرات کا اختلاف اور ان کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم ہمارے ہاں کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کا اظہار عموماً فرقہ وارانہ اسالیب اور تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ کی صورت میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ: قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں ۷ اور ۸ ستمبر ۲۰۱۶ء کو ’’سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ (بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) اور قراقرم یونیورسٹی کے زیر اہتمام دو روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ ۔ ۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۳)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۱۰۱) أنفسکم کا ترجمہ۔ قرآن مجید میں بعضکم بعضا کی تعبیر متعدد مقامات پر آئی ہے، اور حسب حال مختلف ترکیبوں کے ساتھ استعمال ہوئی ہے، بعضکم بعضا کا ترجمہ ہوتا ہے ’’ایک دوسرے کو‘‘ اور ’’آپس میں‘‘ اور ’’کوئی کسی کو‘‘ جیسے: ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَکْفُرُ بَعْضُکُم بِبَعْضٍ وَیَلْعَنُ بَعْضُکُم بَعْضاً(العنکبوت:۲۵) کبھی فعل کے ثلاثی مجردکے بجائے باب تفاعل سے ثلاثی مزید میں استعمال ہونے سے بھی بعضکم بعضا کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے یقتل بعضھم بعضا کا مفہوم وہی ہے جو یتقاتلون کا ہے ۔ ۔ ۔

فنا میں بقا کی تلاش

محمد حسین
اس وقت زمینی، فضائی یا بحری طور پر انڈیا اور پاکستان کے مابین عملاً جنگ شروع ہو نہ ہو، مگر دو طرح کے مائنڈ سیٹ کے مابین یہ جنگ عملاً شروع ہو چکی ہے بلکہ عروج پر ہے۔ دونوں ملکوں میں ایک طرف جنگ پسند طبے آپس میں ذرائع ابلاغ، نجی محفلوں، خوابوں اور آپس کی بحثوں میں فتح و شکست کے حساب کتاب میں لگے ہیں۔ یہ طبقہ ردعمل، غلبہ، احساس کمتری و برتری کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر جنگ کو اس وقت کی اہم ترین اور واحد ضرورت اور ذمہ داری سمجھ رہا ہے ۔ ۔ ۔

مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی فقہ

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
(مصنف کی کتاب ’’جہاد، مزاحمت اور بغاوت‘‘ کی ایک فصل) ۔ شیخ یوسف القرضاوی کی ’’فقہ الجہاد‘‘ میں ایک اہم بحث مناقشۃ فقہ جماعات العنف کے عنوان کے تحت ہے ، جس میں شیخ قرضاوی نے کوشش کی ہے کہ مسلمان ریاستوں میں حکومتوں کے خلاف خروج کے قائلین کی فقہ کے اہم مبادی سامنے لا کر ان کی غلطی واضح کی جائے ۔ یہ بحث بہت مفید نکات پر مشتمل ہے ۔ ۔ ۔

جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام سے میرا تعلق

ابو عمار زاہد الراشدی
(جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے سابق راہ نما رانا شمشاد علی خان کے سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا)۔ سوال نمبر ۱۔ کیا آپ کبھی JTI کے ساتھ منسلک رہے؟ آپ کا JTI سے کیا تعلق تھا؟ سوال نمبر ۲۔ JTI سے آپ کی وابستگی کے خدوخال کیا تھے؟ سوال نمبر ۳۔ JTI کا تحریک نظام مصطفیؐ، تحریک جمہوریت، تحریک ختم نبوت میں کیا کردار رہا؟ سوال نمبر ۴۔ کیا JTI کی قیادت نے کالجز اور مدارس کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملاں اور مسٹر کے فرق کو ختم کیا، اور کہاں تک کامیاب رہی؟ ۔ ۔ ۔

مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

عاصم بخشی
’مذہب پسند‘ کی اصطلاح کوا ن سب طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک واحد بامعنی قدر ہے، اگر ان تمام طبقات کا ایک عمومی سا جائزہ لیا جائے تو ہمارے ہاں فلسفہ و سائنس کو لے کر دوقسم کے فکری دھارے دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان مذہب پسندوں میں سے ایک تو وہ ہیں جو اپنے علمی منہج کو غزالی سے منسوب کر کے ’تہافت الفلاسفہ‘ میں مشغول ہیں ۔ ۔ ۔

فقہاء و مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ کا فرق

محمد زاہد صدیق مغل
اس مختصر نوٹ میں فقہائے کرام و مکتب فراہی کے تصور قطعی الدلالۃ کا موازنہ کیا جائے گا جس سے معلوم ہوگا کہ فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالۃ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔ قطعی الدلالۃ کے معنی میں ابہام ۔ فقہاء کا ماننا یہ ہے کہ قرآن مجید کی تمام آیات کے معنی ایک ہی درجے میں واضح نہیں بلکہ معنی کا وضوح مختلف درجوں میں ہوتا ہے۔ آیات کے معنی واضح ہونے کے اعتبار سے فقہاء انہیں دو عمومی قسموں میں بانٹتے کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی
عصر حاضر میں فقہ اسلامی کی مرحلہ وار ،مربوط اور مرتب تاریخ پر قابل قدر علمی کام ہوا ہے اور خاص طور پر عالم عرب سے فقہ اسلامی اور مذاہب فقیہ کے تعارف و تاریخ پر مشتمل انتہائی اہم کتب سامنے آئی ہیں۔ فقہ اسلامی کی تجدید، احیاء اور نت نئے مسائل میں مختلف مکاتب فکر سے اخذ و استفادہ کو آسان بنانے میں ان کتب کا بڑا اہم اور بنیادی کردار ہے۔ ان کتب کی افادیت اور اہمیت اپنی جگہ ،لیکن ان میں تاریخی حوالے سے مختلف عوامل کی بنیاد پر بعض تسامحات بھی سامنے آئے ہیں ۔ ۔ ۔

کافر یا غیر مسلم؟ چند توضیحات

مولانا محمد تہامی بشر علوی
جو انسان حق کو جانتے بوجھتے ماننے سے انکار کر دے، وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف" کافرین" سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی جہنم کی سخت ترین سزاسے دیتا ہے۔ قرآن مجید جہاں کافر کی تعبیر اختیار کرتا ہے، ساتھ ہی اس گروہ کے بد ترین انجام کو بھی لازم مانتا ہے۔قرآن مجیدمیں کافر انہی حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس جو انسان حق کو جاننے کے بعد اسے قبول کر لیتا اوراس کے سامنے سرتسلیم خم کر جاتا ہے ۔ ۔ ۔

مکاتیب

عرفان شہزاد / غلام ابوبکر صدیقی
(۱) مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے جو اہل علم و نظر کی خدمت میں برائے غور و فکر اور برائے نقد پیش کیا جاتا ہے۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنا یہ خیال کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے بھی پہلے حدیث کو ماننا ضروری ہے ۔ ۔ ۔
(۲) اظہار براء ت بسلسلہ ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ مولفہ حافظ عبد الجبار سلفی۔ حضرت مولانا محمد نافع (جامعہ محمدی شریف چنیوٹ) کی تمام تالیفات اور تحریرات اس امر کا زندہ ثبوت ہیں کہ دوسرے مسالک کے علماء کرام اور نظریاتی مخالفین سے علمی اختلاف کے باوجود ان کی تحقیر یا ذات کو ہدف تنقید بنانا آپ کے مزاج اور اسلوب تحریر میں شامل نہ تھا ۔ ۔ ۔

توضیحی اشاریہ تفسیر تدبر قرآن

تعارف و تبصرہ
مرتب: منظور حسین عباسی۔ صفحات: ۷۴۲ ۔ ناشر: فاران فاؤنڈیشن، لاہور (042-36303244)۔ مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تصنیف ’’تدبر قرآن‘‘ نہ صرف عہد حاضر کا ایک مایہ ناز علمی شاہکار ہے، بلکہ پورے تفسیری ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب قرآن مجید پر مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا اصلاحی کے کم وبیش پون صدی کے غور وفکر اور تدبر کا حاصل ہے اور بلاشبہ اسے قرآنی علوم ومعارف کا ایک جامع انسائیکلو پیڈیا قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج