ماہنامہ الشریعہ

جلد ۲۷ - شمارہ ۶ - جون ۲۰۱۶ء

غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقتدر طبقات کی تکفیر / تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے / چھوٹی عمر کے بچے اور رسمی تعلیم کا عذاب
محمد عمار خان ناصر

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۱۹)
ڈاکٹر محی الدین غازی

فتویٰ کی حقیقت و اہمیت اور افتا کے ادارہ کی تنظیم نو
ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی

مطالعہ و تحقیق کے مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ
محمد زاہد صدیق مغل

دیوبند کا ایک علمی سفر
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟
ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

لاہور کے سیاست کدے
محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی بحث
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟
ڈاکٹر عرفان شہزاد

کیا توہین رسالت پر سزا کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے؟
مولانا غلام محمد صادق

مولانا غلام محمد صادق کے نام مکتوب
ابو عمار زاہد الراشدی

’’میرا مطالعہ‘‘
مرتب: عرفان احمد

غیر شرعی قوانین کی بنیاد پر مقتدر طبقات کی تکفیر / تہذیب جدید اور خواتین کے استحصال کے ’’متمدن‘‘ طریقے / چھوٹی عمر کے بچے اور رسمی تعلیم کا عذاب

محمد عمار خان ناصر
تکفیری نقطہ نظر کے حاملین کی طرف سے حکمران طبقات کے کفر وارتداد کے ضمن میں ایکبڑی نمایاں دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ انھوں نے مسلمان ممالک میں شریعت اسلامیہ کے بجائے غیر شرعی نظاموں اور قوانین کو نافذ کررکھا ہے اور مسلمانوں کے معاملات احکام شرعیہ سے بغاوت کی بنیاد پر چلائے جا رہے ہیں۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ موجودہ مسلم ممالک میں اجتماعی نظام کلی طور پر شریعت اسلامیہ کی ہدایات پر استوار نہیں . . .

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۱۹)

ڈاکٹر محی الدین غازی
قرآن مجید میں خیر الرازقین کئی جگہ آیا ہے، عربی زبان میں ’’خیر‘‘ کبھی تفضیل کے لیے ہوتا ہے تو کبھی مبالغہ کے لیے، اردو میں جب ہم سب سے اچھا اور سب سے بہتر کہتے ہیں تو صرف تفضیل مراد ہوتی ہے، اور جب بہترین کہتے ہیں، تو تفضیل بھی مراد ہوسکتی ہے اور مبالغہ بھی مقصود ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے جہاں کلام کا موقع و محل یہ تقاضا کرے کہ تفضیل کے بجائے مبالغہ کا مفہوم لیا جائے وہاں ’’سب سے بہتر‘‘ کے بجائے ’’بہترین‘‘ کہنا مناسب ہوتا ہے، خیر الرازقین کے ترجمہ میں اس کا لحاظ ہونا چاہئے . . .

فتویٰ کی حقیقت و اہمیت اور افتا کے ادارہ کی تنظیم نو

ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی
دستور، قانون اور عملی احکام سے آگاہی معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت ہے، اس لیے کہ آئین کی روح کو سمجھنا، قانون سے واقف ہونا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہر مہذب فرد کا فریضہ ہے۔ دین اسلام نے بالکل آغاز سے انسان کو اس بنیادی ضرورت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک علم نافع جو ہر فرد بشر کے فکری ارتقا اور استحکام کے لیے ضروری ہے . . .

مطالعہ و تحقیق کے مزاج کو فروغ دینے کی ضرورت

مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی
حضرت مولانا دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی عیسٰی صاحب مدظلہ العالی۔ میں یقیناًاس لائق نہیں ہوں کہ جس طرح کے کلمات خیر سے ازراہِ محبت ذکر کیا گیا ہے، لیکن چونکہ یہ بڑے حضرات ہیں، اکابر حضرات ہیں، اس لیے دعا و تمنا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خیالات کو حقیقت میں بدل دے اور ان کے یہ کلمات ہمارے لیے ایسی دعا ثابت ہوں جو حقیقت ہو جائیں۔ یہ بات میرے لیے بڑی خوش نصیبی اور سعادت کی ہے کہ اس مبارک مدرسہ میں حاضری ہوئی . . .

عصری لسانیاتی مباحث اور الہامی کتب کی معنویت کا مسئلہ

محمد زاہد صدیق مغل
جدید لسانیاتی مباحث اپنی وضع میں پوسٹ ماڈرن مباحث سے ماخوذ ہیں۔ ان مباحث کی رو سے الفاظ کے تمام تر اطلاقات اور معانی معاشرتی ماحول اور نفس کی کیفیاتی تناظر کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ اس فلسفے کے زور پر فلسفہ لسانیات کے ماہرین الہامی کتب کی نہ صرف آفاقیت پر سوال کھڑا کرتے ہیں بلکہ الہامی کتب سے منسوب کسی بھی قسم کی قطعی معنویت کا انکار کرتے ہیں . . .

دیوبند کا ایک علمی سفر

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی
دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مسلمانوں کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔ وہ ازہر ہند کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ راقم السطور نے اس سے قبل بھی تین مرتبہ دیوبند کا سفر کیا ہے۔ سب سے پہلا سفر زمانہ طالب علمی میں آج سے کوئی 20سال پہلے کیا تھا جس کی کوئی خاص بات یاد نہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ بعض دوستوں کے ساتھ مولانا سعید احمد پالن پوری کے درس ترمذی میں شرکت کی تھی جس کا ان دنوں شہرہ تھا . . .

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی
مجھے نہ معلوم کیسے شروع سے یہ احساس تھا کہ پاکستان برصغیر میں اسلام کی بقا کے باعث وجود میں آیا۔ انگریزی انتداب کے بعد جس طبقے نے اسے سپین ہونے سے بچایا، حقیقتاً وہی لوگ اس ملک کے خالق ہیں اور اس کا نظم چلانے کے اولیں مستحق بھی۔ لیکن تاریخی ارتقا کے نتیجے میں ملکی نظم و نسق چلانے کے لیے کچھ مخصوص مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ مدارس کا ایک طبقہ تقسیم ملک کے بعد بھی اس ذہنی کیفیت سے نہیں نکل سکا جو غیر ملکی تسلط کے باعث پیدا ہوئی تھی اور ایک حد تک فطری اور نا گزیر تھی . . .

لاہور کے سیاست کدے

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ
لاہور کے بادامی باغ سے اگر آپ ریلوے اسٹیشن کی طرف جائیں تو دائیں جانب پہلے مستی گیٹ اور اس سے آگے شیرانوالہ گیٹ نظر آئے گا۔ اب تو ہجوم آبادی کے سبب لاہور کے سب تاریخی دروازوں کی طرح اس کا بھی حسن گہنا گیا ہے ۔ دروازے کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب وہ تاریخی مسجد شیرانوالہ گیٹ ہے جہاں پاکستان کی سیاست کے کئی اسرار و رموز دفن ہیں . . .

قرآن مجید کے قطعی الدلالہ ہونے کی بحث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
یہ گفتگو ادارہ علم و تحقیق "المورد" کے سلسلہ وار آن لائن ماہانہ علمی لیکچرز کی سولہویں نشست میں کی گئی۔ اسے کچھ تہذیب و تنقیح کے بعد اشاعت کی غرض سے لیکچر سے تحریری صورت دی گئی ہے۔ سب سے پہلے ہم قطعی الدلالہ کا معنی واضح کر دیں۔ قطعی کا لفظ "قطع" سے ہے کہ جس کا معنی کاٹنا ہے۔ پس "قطعی الدلالہ" میں قطعی کا معنی یہ ہے کہ لفظ میں موجود ایک سے زائد معانی کے احتمالات کا ختم ہو جانا اور محتمل معانی میں سے ایک ہی معنی کا متعین ہو جانا . . .

توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عرفان شہزاد
انسانی رویے، مختلف سماجی، نفسیاتی، جینیاتی اور عقلی عوامل کا نتیجہ اور رد عمل ہوتے ہیں۔ انسانی رویوں کے باقاعدہ مطالعے کی روایت ہمارے ہاں بوجوہ پنپ نہیں سکی، حالانکہ اس کے بغیر کسی بھی انسانی رویے کی درست تشخیص ہو سکتی ہے اور نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ ہمارے ہاں محض علامات دیکھ کر فیصلہ صادر کرنے کا چلن ہے۔ کسی رویے کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے . . .

کیا توہین رسالت پر سزا کے قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے؟

مولانا غلام محمد صادق
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ہمارے لیے قابل احترام علمی شخصیت محترم حضرت مولانا محمد خان شیرانی صاحب نے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل توہین رسالت کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار ہے۔ مگر اس کے لیے حکومت یہ مسئلہ باقاعدہ طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے۔ (روزنامہ اسلام ۳۱ جنوری ۲۰۱۶ء) اس پر مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی . . .

مولانا غلام محمد صادق کے نام مکتوب

ابو عمار زاہد الراشدی
مکرمی حضرت مولانا غلام محمد صادق زید مجدکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ کل ہی ایک دوست نے ماہنامہ النصیحۃ کے ایک شمارہ کی طرف توجہ دلائی ہے جس کے اداریہ میں آنجناب نے مولانا محمد خان شیرانی، پروفیسر ساجد میر، اور راقم الحروف کو خطاب کر کے توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے کچھ نصائح فرمائے ہیں۔ یاد فرمائی کا شکریہ۔ توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کے حوالہ سے میرا موقف واضح ہے . . .

’’میرا مطالعہ‘‘

مرتب: عرفان خان
مطالعہ اہل علم کی زندگی کا مرغوب ترین مشغلہ ہوتا ہے اور اس حوالے سے ہر صاحب علم کا اپنا منفرد ذوق اور خاص تجربات ہوتے ہیں۔ قریبی تعلقات رکھنے والے اصحاب علم میں ایک دوسرے کے ذوق مطالعہ سے مستفید ہونا بھی عام مشاہدے کی چیز ہے۔ نامور اہل علم سے ان کے مطالعاتی سفر کی تفصیلات معلوم کرنے اور انھیں عمومی افادہ کے لیے یکجا کرنے کی روایت بھی ہمارے ہاں موجود ہے . . .

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج