خاطرات

محمد عمار خان ناصر
مولانا مودودی کی دینی فکر اور شدت پسندی کا بیانیہ
مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کا شمار عصر حاضر کے ان ممتاز مفکرین میں ہوتا ہے جنھوں نے بطور ایک اجتماعی نظام کے، اسلام کے تعارف پر توجہ مرکوز کی اور مختلف پہلووں سے اس بحث کو تحقیق وتصنیف کا موضوع بنایا۔ مولانا کی دینی فکر میں اسلامی ریاست کا قیام، جس کووہ اپنی مخصوص اصطلاح میں ’’حکومت الٰہیہ‘‘ کا عنوان دیتے ہیں، بے حد اساسی اہمیت کا حامل ہے اور وہ اسے مسلمانوں کے ایک اجتماعی فریضے کا درجہ دیتے ہیں ۔۔۔
ترکی کا ناکام انقلاب ۔ کیا چیز سیکھنے کی ہے اور کیا نہیں؟
ترکی میں فوجی انقلاب کی حالیہ ناکام کوشش مختلف حوالوں سے اور مختلف ذہنی سطحوں پر ہمارے ہاں بھی زیر بحث ہے اور حسب سابق ساری بحثیں اور تجزیے نفس واقعہ کی تفہیم میں کوئی مدد دینے سے زیادہ اپنے ہی ذہنی رویوں اور فکری سانچوں کو سمجھنے میں ہمارے لیے مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۲۱)

ڈاکٹر محی الدین غازی
(۹۷) افتری علی اللہ الکذب کا ترجمہ: افتری کے معنی گھڑنا ہوتے ہیں، افتری الکذب کا مطلب ہوتا ہے جھوٹ بات گھڑنا، اور افتری علی اللہ الکذب کا مطلب ہے اللہ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا، اور اللہ کی طرف بے بنیاد بات منسوب کرنا۔ قرآن مجید میں یہ تعبیر بہت زیادہ مقامات پر آئی ہے، بہت سے مترجمین کے یہاں دیکھا جاتا ہے کہ اس کا ترجمہ کرتے وقت کبھی کبھی بہتان باندھنے یا تہمت لگانے کا ترجمہ کردیتے ہیں، لیکن یہ درست نہیں ہے ۔۔۔

فقہ حنفی کی مقبولیت کے اسباب و وجوہ کا ایک جائزہ

مولانا عبید اختر رحمانی
فقہ حنفی کو اللہ نے جس قبول عام سے نوازا ہے، اس سے ہرخاص و عام بخوبی واقف ہے۔ دنیا بھرکے سنی مسلمانوں کا دو تہائی حصہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اجتہادات کے مطابق عبادات کی ادائیگی کرتا آرہا ہے۔ فقہ حنفی کے اس قبول عام کی کچھ خاص وجوہ رہی ہیں؛ لیکن اکثر ایسا ہوا ہے کہ اس کے اسباب پر گہرائی سے غور و فکر کرنے کے بجائے محض یہ کہہ کر اس حقیقت کو گدلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکومت عباسیہ کی سرپرستی اور اثر و نفوذ کے سبب فقہ حنفی کوفروغ حاصل ہوا ۔۔۔

برصغیر کی صنعتی و تجارتی حالت ۔ انگریز کی آمد سے پہلے اور بعد میں

محمد انس حسان
کسی بھی ملک کی صنعت و معیشت اس ملک ترقی کی ضامن ہوتی ہیں۔ انگریز سامراج کی آمد سے قبل یہ خطہ صنعتی و معاشی لحاظ سے اس قدر خوشحال وترقی یافتہ تھا کہ اسے سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ گیارہویں صدی سے انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان تجارتی و صنعتی اعتبار سے بہت نمایاں تھا۔ اس دور میں انگلستان سے جاپان تک ہندوستانی مال فروخت ہوتا تھا۔ دورِ حاضر کے بیشتر یورپی ممالک اس خطہ کی صنعتی و تجارتی منڈیاں تھیں ۔۔۔

روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لیے مولانا زاہد الراشدی کا انٹرویو

انٹرویو نگار: رانا محمد آصف
(روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والا انٹرویو ضروری اصلاح و ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے جس کی نظر ثانی مولانا راشدی نے کی ہے۔) اب سے ربع صدی قبل کے زمانے کے ایک سرگرم سیاسی کارکن علامہ زاہد الراشدی نے عملی سیاسی سرگرمیوں سے رفتہ رفتہ کنارہ کشی اختیار کر لی ہے لیکن فکری اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اب بھی کئی تنظیمات اور فورموں سے وابستہ ہیں۔ مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فکری فورم قائم کیا ۔۔۔

بین المذاہب مکالمہ: چند مشاہدات و تاثرات

محمد حسین
( محمد حسین، گزشتہ کئی سالوں سے امن و مکالمہ کے ماہر نصابیات اور ٹرینر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور مختلف موضوعات پر ایک درجن سے زائد کتابوں کی تحریر و تدوین کے علاوہ مذہبی ہم آہنگی پر کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین کو تربیت دے چکے ہیں۔) انفرادی و اجتماعی زندگی کے متعدد محرکات کی بنیاد پر انسان اپنی تاریخ کے طول و عرض میں مختلف و متعدد ارتقائی مراحل سے گزرا ہے۔ گزشتہ تین صدیوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک و تہذیبوں میں بٹے انسانی معاشرے نے ترقی ( یا بسا اوقات تنزل) کے کئی سنگ میل کئی انقلابات کی صورت میں تیز رفتاری سے طے کیے ہیں ۔۔۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج