ماہنامہ الشریعہ

جلد ۲۴ - شمارہ ۱۰ - اکتوبر ۲۰۱۳ء

برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ
رئیس التحریر


اخلاقیات کی غیر الہامی بنیادوں کا داخلی محاکمہ
محمد زاہد صدیق مغل


مغرب میں مطالعہ اسلام کی روایت
محمد عمار خان ناصر


دو مرحوم بزرگوں کا تذکرہ
ڈاکٹر قاری محمد طاہر


سزائے موت۔ ایک نئی بحث
خورشید احمد ندیم


عذاب قبر اور قرآن کریم (۲)
محمد عبد اللہ شارق


برصغیر میں برداشت کا عنصر۔ دو وضاحتیں
مولانا مفتی محمد زاہد


مکاتیب
عبد الرشید ترابی / محمد اکرام چغتائی / عبد الجبار سلفی


شہوانی جذبات کی وجوہات
حکیم محمد عمران مغل

برصغیر کے فقہی واجتہادی رجحانات کا ایک جائزہ

ابوعمار زاہد الراشدی
۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت میں جب مجاہدین آزادی کی پسپائی نے جنوبی ایشیا کی سیاسی تقدیر کو برٹش حکمرانوں کے سپرد کیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاج برطانیہ نے براہ راست اس خطے کی زمام اقتدار سنبھال لی تو یہ خطہ زمین زندگی کے تمام شعبوں میں ہمہ گیر اور انقلابی تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور برصغیر کے مسلمانوں کے فقہی رجحانات بھی ان تبدیلیوں کی زدمیں آئے بغیر نہ رہ سکے ...

اخلاقیات کی غیر الہامی بنیادوں کا داخلی محاکمہ

محمد زاہد صدیق مغل
جدید زمانے کے مذہب مخالفین، خود کو عقل پرست کہنے والے اور چند سیکولر لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اخلاقیات (خیرو شر، اہم و غیر اہم) یعنی قدر کا منبع الہامی کتاب نہیں ہونا چاھئے (کیوں؟ بعض کے نزدیک اس لیے کہ مذہبی اخلاقیات ڈاگمیٹک ہوتی ہیں، بعض کے نزدیک اس لیے کہ ان کی عقلی توجیہہ نہیں ہوتی اور بعض کے نزدیک اس لیے کہ وہ سرے سے وحی کو علم ہی نہیں مانتے، مگر یہ ’کیوں‘ ...

مغرب میں مطالعہ اسلام کی روایت

محمد عمار خان ناصر
گزشتہ دو تین صدیوں میں مغربی اہل علم اور محققین اپنی مسلسل اور اَن تھک کوششوں کے نتیجے میں اسلام، اسلامی تاریخ اور مسلم تہذیب ومعاشرت کے مطالعہ وتجزیہ کے ضمن میں ایک مستقل علمی روایت کو تشکیل دینے میں کامیاب رہے ہیں جو اہل مغرب کے اپنے تہذیبی وفکری پس منظر اور ان کے مخصوص زاویہ نگاہ کی عکاسی کرتی ہے اور جسے نہایت بنیادی حوالوں سے ...

دو مرحوم بزرگوں کا تذکرہ

پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر
مفتی سید سیاح الدین کاکاخیل ؒ : مفتی سید سیاح الدین قافلہ محدثین کی ایک فراموش شدہ شخصیت کا نام ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ فیصل آباد میں گزرا۔ وہ کم و بیش نصف صدی تک اسی شہر میں قال اﷲ و قال رسول کی علمی روایت کو آگے بڑھاتے رہے ...
مفتی جعفر حسین مرحوم: ڈاکیہ آیا، اگست کا ’’پیام‘‘ لایا۔ ایک مضمون مولانا محمد اسحاق بھٹی کا تھا۔ عنوان تھا ’’مفتی جعفر حسین‘‘۔ یہ مضمون اسحاق بھٹی صاحب کی کتاب ’بزم ارجمندان‘ سے مقتبس تھا۔ بزم ارجمندان ہم نے پہلے بھی دیکھ رکھی تھی لیکن تکراری لذت کا اپنا ہی مزا ہے ...

سزائے موت۔ ایک نئی بحث

خورشید احمد ندیم
شکنجہ سخت ہو رہا ہے۔ معاملہ صرف معیشت یا سیاست کا نہیں، تہذیب کا بھی ہے۔ عالمگیریت ایک سمندر ہے اور اس میں جزیرے نہیں بن سکتے۔ آنکھ کھول کے دیکھیے! ہمارے چاروں طرف کیا ہو رہا ہے؟ چند روز پہلے یورپی یونین کا ایک وفد پاکستان کے دورے پر تھا۔ آنے والے ایک ایسے ادارے سے متعلق تھے جس کا موضوع ’’ انسانی حقوق‘‘ ہیں۔ اس وقت دنیا کی غالب آبادی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ سزائے موت انسانی حقوق سے متصادم ہے ...

عذاب قبر اور قرآن کریم (۲)

محمد عبداللہ شارق
برزخ میں زندگی؟ عذابِ قبر اور قرآن میں تضاد دکھانے کے لیے منکرین نے جو سوال اٹھایا ہے کہ قرآن سے تو انسان کی صرف دو زندگیاں ثابت ہوتی ہیں جبکہ عذابِ قبر سے ایک تیسری زندگی کا اثبات ہوتا ہے ، آئیے اب ذرا ایک نظر اس کو دیکھتے ہیں۔ منکرینِ برزخ کی اس بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے انسان کو صرف دو ہی زندگیاں عطا فرمائی ہیں ...

برصغیر میں برداشت کا عنصر۔ دو وضاحتیں

مولانا مفتی محمد زاہد
’’بر صغیر کی دینی روایت میں برداشت کا عنصر‘‘ کے عنوان سے میرا ایک مضمون دو قسطوں میں الشریعہ میں شائع ہوا جو در حقیقت پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی طرف سے شائع ہونے والے ایک کتابچے کا ابتدائی حصے کے علاوہ باقی حصہ تھا۔ الحمد للہ اس کتابچے اور مضمون کو بہت پذیرائی ملی، بلکہ اتنی پذیرائی کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ میں نے ایک فضول کام کیا ہے ...

مکاتیب

(۱) محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ میں ایک عرصہ سے ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کا قاری اور آپ کا عقیدت مند ہوں .... البتہ گزشتہ کچھ شماروں میں حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا چراغ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو جس طرح بلا جواز تنقید کا نشانہ بنایا گیا ...
(۲) محترمی ابو عمار زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ ’’الشریعۃ‘‘ کے تازہ شمارہ بابت اگست ۲۰۱۳ء میں ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی کا مضمون بعنوان ’’علامہ محمد اسد اور ان کی دینی و علمی خدمات‘‘ شائع ہوا ہے .... اس میں چند ایسی باتوں کا ذکر کیاگیا ہے، جو وضاحت طلب ، تصحیح طلب یا سیاق ...
(۳) بخدمت گرامی مولانا حافظ محمد عمار خان صاحب ناصر۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! اگست اور ستمبر کے شماروں میں راقم الحروف کا دو قسطوں میں تکفیرِ شیعہ پر مقالہ شائع کرنے کا نہایت شکریہ ۔ ستمبر کے شمارہ میں محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اپنے مکتوب میں ہمارے موقف کو دینی حمیت اور ایمانی غیرت قرار دیا ہے ...
(۴) تقریبا دوسال قبل ایک دوست کا ایس ایم ایس موصول ہوا کہ علماء کرام کی زیرنگرانی حلال اور پاکیزہ کاروبار مضاربت میں اپنی رقم انویسٹ کریں اور ماہانہ چار سے پانچ ہزار روپے منافع حاصل کریں ...
(۵) استاد محترم مولانا عمار صاحب نے الشریعہ کے گزشتہ شمارے کے ’’خاطرات‘‘ میں امام شامل‘ کو امیر عبد القادر الجزائری کے ساتھ ملاتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام شاملؒ روس کے وظیفہ خوار تھے اور وہ اپنے اہل وطن کو ترک جہاد کا مشورہ دیتے رہے ...

شہوانی جذبات کی وجوہات

حکیم محمد عمران مغل بی اے
کچھ عرصہ قبل کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے نیک دل ڈاکٹر صاحبان یہ دیکھ کر تڑپ کر رہ گئے کہ ہمارے معاشرے میں نئی نسل کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور اسے کیسی خوراک کھلائی جا رہی ہے۔ انھوں نے دنیا بھر سے چیدہ چیدہ ڈاکٹر صاحبان کو اکٹھا کر کے اس پر غور وخوض کیا۔ ان کی کوشش رنگ لائی اور شہید صدر ضیاء الحق کو دنیا بھر کے ان ڈاکٹر صاحبان کی ...

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج