Article image..
Article image..
ڈاکٹر محمود احمد غازی زندگی بھر میرے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہے، لیکن کبھی کبھی میرے لیے مشکلات بھی کھڑی کر دیتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ فوری طور پر تو یہ کہ ان کے اس دنیائے فانی سے اچانک رخصت ہو جانے کے بعد آج ان کی نسبت میرے لیے سب سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ مجھے ایسے شخص کے بارے میں گفتگو کرنے کی دعوت دی گئی ہے جو خود فصاحت و بلاغت کا مرقع تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر غازی صاحب مجھ سے پوچھنے گے کہ آپ کو شریعہ کی بجائے اصول دین میں داخلہ دے دیا جائے تو کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ ’’اصول دین میں میرا میلان نہیں ہے‘‘۔ پوچھا ’’فقہ پر کوئی کتاب پڑھی ہے؟‘‘ ان دنوں میں سر عبد الرحیم کی کتاب ’’اصول فقہ اسلام‘‘ پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا کہ سر عبد الرحیم کی کتاب ’’اصول فقہ اسلام‘‘ پڑھ رہا ہوں۔ یوں داخلہ ہوگیا اور میں چار سال تک اسلامی یونیورسٹی میں پڑھتا رہا۔ اسی دوران ڈاکٹر غازی صاحب کی علمی پختگی نے ہم سب کو خرید لیا۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج