Article image..
Article image..
Article image..
Article image..
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں نہ کسی تفریح کی گنجائش ہے اور نہ کوئی خوشی منانے کی گنجائش ہے۔ اسلام میں اگر کوئی داخل ہوگیا تو اس کا کام یہ ہے کہ خشک زندگی گزارے اور ہر قسم کی مسرت، خوشی اور سیر و تفریح سے بالکل الگ ہو کر ایک تارک الدنیا کے طور پر زندگی بسر کرے۔ یہ ایک رائے ہے جو کچھ لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ کچھ اور لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف عبادات اور نماز روزے کا نام ہے۔ نماز پڑھ لی تو گویا اللہ پر بڑا احسان کر لیا۔ رمضان کے روزے رکھ لیے تو بہت بڑ ااحسان ہوگیا۔ اس کے بعد ہم جو جی چاہے کریں، ہندوؤں کی نقل کریں، عیسائیوں کی نقل کریں، یہودیوں کی نقل کریں، بد کردار اباحت پسند لوگوں کی نقل کریں۔ جو جی چاہے کریں کہ ہمیں تفریح اور خوشی کے نام پر دنیا کی ہر چیز کرنے کا اختیار ہے۔ یہ ایک دوسری انتہا ہے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج