Article image..
دنیا کے لیے بلاشبہ وہ ڈاکٹر محمود احمد غازی تھے مگر ہمارے لیے وہ صرف ’بابا‘ تھے۔ انہوں نے کبھی گھر میں یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ کتنے بڑے آدمی تھے۔ ان کے علم و تقویٰ کے بارے میں تو خاندان والوں کو بخوبی علم تھا مگر دنیا ان سے کتنی محبت رکھتی ہے اس کا اندازہ ان کے انتقال کے بعد ہوا۔ جس طرح لوگ دیوانہ وار ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور جوق در جوق تعزیت کے لیے آئے اس سے صحح معنوں میں ان کی مقبولیت کا اندازہ ہوا اور بے پناہ رشک آیا۔ لوگوں کی محبت اور عقیدت کو دیکھتے ہوئے وہ حدیث یاد آتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص سے محبت رکھتا ہے دنیا والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دیتا ہے۔
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج