Article image..
’’ذات باری یا دین کو برا بھلا کہنے والا اگر مسلمان ہو تو ایسا کرنے سے وہ اسلام سے مرتد اور کافر قرار پائے گا اور اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو درست، ورنہ حاکم شہر شرعی عدالت کی وساطت سے اس پر قتل کی سزا نافذ کر دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایسے شخص کو توبہ کے لیے نہ کہا جائے بلکہ قتل کر دیا جائے، کیونکہ اس کا جرم بہت سنگین ہے، لیکن راجح بات یہی ہے کہ اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا ...
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج