آزادانہ بحث ومباحثہ اور ’الشریعہ‘ کی پالیسی

ابوعمار زاہد الراشدی
محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے قابل احترام دوست ہیں، تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے ایک عرصے سے سرگرم عمل ہیں، ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے اور دینی حمیت کو بیدار رکھنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے موقر جریدہ ’’البرہان‘‘ کا اکتوبر ۲۰۱۱ء کا شمارہ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار ...

دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۱)

ڈاکٹر محمد شہباز منج
یہ ایک ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ مستشرقین نے بالعموم اسلام کا معروضی مطالعہ پیش نہیں کیا۔ وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اسلام کی غیر حقیقی اور مسخ شدہ تصویر پیش کرتے رہے ہیں۔ ان کی کوشش یہ رہی ہے کہ اسلام کو لوگوں کے سامنے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ ان کو کوئی غیر معمولی اور خاص وقعت کی چیز محسوس نہ ہو بلکہ اس کے برعکس انسانی ترقی و تمدن کی راہ میں مزاحم دکھائی دے...

’’حیات سدید‘ کے چند ناسدید پہلو(۲)

چودھری محمد یوسف ایڈووکیٹ
مجموعی تاثر: کتاب پر تفصیلی اظہار سے پہلے اپنے تاسف کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ کتاب کی ترتیب میں جناب اعظم صاحب کی محنت و ریاضت اور جناب مجید نظامی کی پیش لفظی سطور نے جو مجموعی تاثر، کم از کم میرے ذہن پر چھوڑا ہے، وہ یہ ہے کہ کتاب کی ترتیب کا منشا سید مودودی کی شخصیت کو مجروح کرنا ہے۔ اس غرض کے لیے جنابِ مولف نے پوری فنی مہارت سے ...

شاتم رسول کی توبہ کا شرعی حکم

امام تقی الدین السبکی الشافعیؒ
(۹ ویں صدی ہجری کے ممتاز شافعی فقیہ اور مجتہد علامہ تقی الدین السبکیؒ نے اپنی معروف تصنیف ’’السیف المسلول علیٰ شاتم الرسول‘‘ کی ایک مستقل فصل میں اس مسئلے پر مفصل کلام کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو تو ا س کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں۔ امام صاحب نے ایسے شخص کی توبہ قبول کرنے کے حق میں قرآن وسنت سے مثبت طور پر بھی دلائل پیش کیے ہیں اور اس ضمن میں پیش کیے جانے والے اشکالات کا بھی عالمانہ تجزیہ کیا ہے۔ توہین رسالت کی سزا کے حوالے سے جاری مباحثہ کے تناظر میں، یہاں امام سبکی کی اس بحث کے بعض اہم اور نسبتاً عام فہم اجزا کی تلخیص پیش کی جا رہی ہے۔ عمار ناصر)...

شاتم رسول کی توبہ ۔ سعودیہ کے سابق مفتی اعظم الشیخ عبد العزیز بن بازؒ کا فتویٰ

...... ’’ذات باری یا دین کو برا بھلا کہنے والا اگر مسلمان ہو تو ایسا کرنے سے وہ اسلام سے مرتد اور کافر قرار پائے گا اور اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا۔ اگر توبہ کر لے تو درست، ورنہ حاکم شہر شرعی عدالت کی وساطت سے اس پر قتل کی سزا نافذ کر دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایسے شخص کو توبہ کے لیے نہ کہا جائے بلکہ قتل کر دیا جائے، کیونکہ اس کا جرم بہت سنگین ہے، لیکن راجح بات یہی ہے کہ اسے توبہ کے لیے کہا جائے گا ...

مشہورات کو مسلمات بنانے سے اجتناب کی ضرورت

مولانا محمد عبداللہ
میرے خیال میں اب وہ وقت آگیا ہے کہ میرے ایسے طالبِ علم کو توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ کے ضمن میں کچھ عرض کرتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے جناب مولانا زاہدالرشدی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے بہت طویل انتظارکے بعد ہی سہی، بہرحال اِس نازک اور حساس مسئلہ میں خاموشی پر اظہار کو ترجیح دی،

کیا معاصر جہاد ’منہاج دین‘ کے خلاف ہے؟

زاہد صدیق مغل
ماہنامہ الشریعہ، شمارہ اکتوبر ۲۰۱۱ میں فاضل مصنف جناب اویس پاشا قرنی صاحب کا مضمون ’عصر حاضر میں غلبہ اسلام کے لیے جہاد‘ نظر سے گزرا۔ صاحب مضمون نے اپنے مضمون میں دو مقدمات پر بحث کی ہے۔ اولاً، موجودہ دور میں نصوص دعوت کو منسوخ ٹھہرانے والے حضرات کا رد (مضمون کے اس حصے سے ہمیں اتفاق ہے کہ دعوت و تبلیغ کی اہمیت کا انکار کرنا کسی طور درست نہیں)۔ ثانیاً، موجودہ دور میں ...

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعواے نبوت اور مولانا وحید الدین خان کا تجاہل عارفانہ

مولانا مفتی محمد سعید خان
جناب مولانا وحید الدین خان صاحب ، عصر حاضر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے قارئین کا پوری دنیا میں ایک حلقہ موجود ہے۔لوگوں کوان کی تحریرات کاانتظار رہتا ہے اور ہزاروں افراد نہ صرف یہ کہ ان کے مشن سے وابستہ ہیں بلکہ کسی بھی معاملے میں انہیں جو ہدایات مولانا کی طرف سے ملتی ہیں، وہ دل وجان سے ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں...

مکاتیب

(۱) برادرم مولانا زاہد اقبال صاحب ۔ السلام علیکم ۔ مزاج گرامی؟ آپ کی کتاب ’’اسلامی نظام خلافت‘‘ میں نے دیکھ لی ہے اور اس پر تقریظ بھی لکھ دی ہے، مگر میں اس سلسلہ میں بعض تحفظات رکھتاہوں جو الگ درج کر رہا ہوں۔ انہیں غور سے دیکھ لیں اور اگر میری گزارشات آپ کے ذہن میں آجائیں تو متعلقہ مقامات کا از سر نوجائزہ لے لیں۔ ۱۔کتاب قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے علمی ذخیرے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے اورآج کے عالمی حالات ...

فالج کا ایک نایاب نسخہ

حکیم محمد عمران مغل بی اے
مسجد ومدرسہ نیلا گنبد ، انار کلی لاہور کو ہمیشہ ایک مرکزی مقام حاصل رہا ہے۔ یہاں بڑے بڑے علما، فقہا، اساتذہ کرام اور حکما کا جمگھٹا رہا ہے۔ انھی میں ایک ایسے عالم دین تھے جو سرکاری نوکری چھوڑ کر یہاں کے پرسکون ماحول میں آ بسے۔ دین کے علاوہ کوئی کام یا مجلس انھیں پسند نہ تھی۔ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں کے اسکالر تھے...

قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج