دینی جماعتیں اور انتخابی سیاست - مولانا عبد الغفار حسن
یہ بات عیاں ہے کہ دینی جماعتوں کے رہنما پچھلے انتخابی تجربات سے کوئی خاص سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں اور ایک دفعہ پھر انتخابی دنگل میں کودنے کے لیے بے تاب ہیں- دینی جماعتوں میں سب سے زیادہ فعال اور منظم جماعت اسلامی ہے لیکن انتخابی سیاست کے کارزار میں دشت پیمائی کا حاصل اب تک یہ رہا ہے کہ ١٩٥١ میں جماعت اسلامی نے پہلی بار الیکشن میں حصہ لیا` جماعت صرف ایک سیٹ لے سکی-
پاکستان بننے سے قبل مسلم لیگ اپنی مقبولیت کی معراج پر تھی- غالبا`` ٤٦ یا ٤٧ میں مولانا مودودی مرحوم سے مدارس کے ایک جلسہ عام میں مسلم لیگ کی اس مقبولیت کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے جنگل میں سیلاب آجائے- ایسی صورت میں جنگل کے تمام جانور` چاہے وہ شکاری ہوں یا شکاریوں کے تر نوالے` سب کے سب ٹیلے کی طرف دوڑتے ہیں- سب سیلاب سے بچنا چاہتے ہیں اس لیے ایک دوسرے سے تعرض نہیں کرتے` لیکن جیسے ہی وہ ٹیلے پر پہنچ جاتے ہیں` ہر شکاری اپنے شکار پر وار کرنے کے لیے بے قرار ہو جاتا ہے- مولانا نے کہا کہ اب بھی یہی صورت حال ہے- ہندو سامراج کے سیلاب کا اندیشہ ہے- اس سے بچنے کے لیے پاکستان کا ٹیلہ سامنے رکھا گیا ہے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد یہ ساری جمعیت منتشر ہو جائے گی اور خود غرض افراد کی اکثریت بندر بانٹ کرے گی-
dini jamaetain aur intikhabi siasat by maulana abdul ghaffar hasan