ہمارے ہاں دینی وعلمی مواقف بھی اب اصولی علمی ضوابط کی پابندی کرنے کے بجائے سیاسی حالات سے متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور بڑی بڑی معتبر شخصیات اور دار الافتاءبھی اب کسی مسئلے کی دینی وشرعی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے یہ دیکھنے لگے ہیں کہ ہوا کا رخ  کیا ہے-
 

   
علما اور سیاست - ابو عمار زاہد الراشدی
دینی جدوجہد کی یہ فطری تقسیم کار چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے کہ علمی کام کرنے والے خاموشی سے اپنے کام میں مگن ہیں` دعوتی ذوق رکھنے والے دعوت و اصلاح کے میدان میں اپنے محاذ پر مصروف ہیں اور تحریکی مزاج کے اہل علم و دین کا اپنا میدان کار ہے-
پاکستان کی باون سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو یہ تمام شعبے یہاں بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف دکھائی دیں گے اور ان میں بھی باہمی تعاون کی ایک خاموش روش بھی نظر آئے گی- پھر خورشید ندیم صاحب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ علما کی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے ملکی دستوری لحاظ سے اسلامی ہے اور قانون سازی میں یہ ضمانت موجود ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا-
ulama aur siyasat by abu ammar zahid-ur-rashdi
ماہنامہ الشریعہ
جلد 13 شمارہ نمبر 10 اکتوبر 2002
دہشت گردی کے حوالے سے چند معروضات
رئیس التحریر

دعوت دین کا حکیمانہ اسلوب
پروفیسر محمد اکرم ورک

امریکی جارحیت کے محرکات
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

اسلامی تحریک کا مستقبل : چند اہم مسائل
راشد الغنوشی

علما اور عملی سیاست
خورشید احمد ندیم

علما اور سیاست
ابو عمار زاہد الراشدی

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتیں
ابو عمار زاہد الراشدی

عوام مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

مذہبی جماعتوں کی ``دکھتی رگ``
جاوید چودھری
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ـ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ـ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
حالات و مشاہدات
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
آپ نے پوچھا
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ

الشریعہ اکادمی

ماہنامہ الشریعہ

٢٠٠٢
٢٠٠٣
٢٠٠٤
٢٠٠٥
٢٠٠٦
٢٠٠٧
٢٠٠٨
٢٠٠٩
٢٠١٠
٢٠١١
٢٠١٢

ویب سائیٹس / مطبوعات

Free web Counter
Web Counter