علما اور سیاست - ابو عمار زاہد الراشدی
دینی جدوجہد کی یہ فطری تقسیم کار چودہ سو سال سے چلی آرہی ہے کہ علمی کام کرنے والے خاموشی سے اپنے کام میں مگن ہیں` دعوتی ذوق رکھنے والے دعوت و اصلاح کے میدان میں اپنے محاذ پر مصروف ہیں اور تحریکی مزاج کے اہل علم و دین کا اپنا میدان کار ہے-
پاکستان کی باون سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو یہ تمام شعبے یہاں بھی اپنے اپنے دائرہ کار میں مصروف دکھائی دیں گے اور ان میں بھی باہمی تعاون کی ایک خاموش روش بھی نظر آئے گی- پھر خورشید ندیم صاحب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ علما کی سیاسی جدوجہد کی وجہ سے ملکی دستوری لحاظ سے اسلامی ہے اور قانون سازی میں یہ ضمانت موجود ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا-
ulama aur siyasat by abu ammar zahid-ur-rashdi