دعوت دین کا حکیمانہ اسلوب - پروفیسر محمد اکرم
دعوت کے دو بنیادی کردار ہیں- ایک داعی اور دوسرا مدعو- تاہم دعوت کی کامیابی کا مکمل انحصار داعی کی ذات پر ہے کیونکہ دعوت کے مضامین خواہ کتنے ہی پرکشش کیوں نہ ہوں` اگر داعی کا طریق دعوت ڈھنگ کا نہیں ہے اور وہ مخالف کو حالات کے مطابق مختلف اسالیب اختیار کر کے بات سمجھانے کی قدرت نہیں رکھتا تو اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے- ایک نادان اور غیر تربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کے لیے اس دعوت کے دشمنوں سے بھی زیادہ ضرر رساں ہوسکتا ہے- گویا دعوت کی کامیابی میں مرکزی کردار داعی کا ہے-
dawat-e-deen ka hakimana usloob by professor doctor muhammad akram virk