اسلامی نظام تعلیم ایک ہمہ جہت تعمیری و انقلابی تعلیم کا خواہاں ہے جس کے جلو میں نہ صرف سیاسی ہنگامہ خیزی اور فکری آزاد روی پروان چڑھتی ہے بلکہ جو ہمہ نوع و ہمہ جہت مثبت و تعمیری تبدیلیوں کا سبب و ذریعہ بنتی ہے- اس کے بنیادی خدوخال پیش کرنا خود ایک طویل مقالے کا موضوع ہے- ذیل میں اختصار کے ساتھ اس کے اہم چند نکات پیش کیے جاتے ہیں- لازمی و جبری تعلیم - مفت تعلیم - بچوں کی تعلیم - معذوروں کی تعلیم - خواتین کی تعلیم - تعلیم بالغاں - غیر مسلموں کی تعلیم - تخصصات -
ماہنامہ الشریعہ
جلد 13 شمارہ نمبر 8 اگست 2002
امریکہ کے باضمیر دانشوروں کا اعلان حق
رئیس التحریر

صدر کے سہ ملکی دورے کے مضمرات
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

اسلامی نظام تعلیم کے بنیادی خدوخال
حافظ سید عزیز الرحمٰن

عالم اسلام کے فکری مسائل
خورشید ندیم / منظور الحسن

ٹیپو سلطان` اقبال اور عصر حاضر
پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

گلوبلائزیشن اور مذہب کا کردار
چندرا مظفر

دروس قرآن کی اشاعت کا آغاز
ابو عمار زاہد الراشدی

محمد بن اسحاق المطلبی -
شخصیت و کردار

مولانا مفتی فدا محمد