الشریعہ اکادمی ۔ رپورٹ ۲۰۱۸ء

الشریعہ اکادمی کا قیام آج سے ربع صدی قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب اور جامعہ نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث مولانا زاہد الراشدی کی نگرانی و اہتمام میں عمل میں لایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد دینی حلقوں میں عصری تقاضوں کا شعور اجاگر کرنا اور باہمی رابطہ و تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علمی و فکری بیداری کی فضا قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم و تدریس، ابلاغ عامہ کے میسر ذرائع اور فکری و علمی مجالس کے ذریعے جدوجہد جاری ہے۔ ابتدائی چند سال اکادمی کی سرگرمیاں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جاری رہیں، بعد میں کھیالی گوجرانوالہ کے ایک بزرگ حاجی یوسف علی قریشی مرحوم نے ہاشمی کالونی کنگنی والا میں ایک کنال اراضی الشریعہ اکادمی کے لیے وقف کر دی جہاں مسجد خدیجۃ الکبریٰ اور تعلیمی بلاک کی تعمیر کی گئی۔ تہہ خانہ اور اس کے اوپر ایک منزل تعمیر ہو چکی ہے جبکہ منصوبہ کے مطابق ایک منزل کی تعمیر ابھی باقی ہے جو کہ تعمیری ضروریات ناکافی ہونے کے سبب ابھی تک تاخیر کا شکار ہے۔ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی اور ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا عمار خان ناصر ہیں جبکہ مولانا محمد عثمان جتوئی، مولانا طیب الرحمان، مولانا عبد الوہاب، مولانا کامران، مولانا عبد الغنی، مولانا لقمان، مولانا محفوظ الرحمان، قاری ابوبکر اور ڈاکٹر محمود احمد پر مشتمل اساتذہ و منتظمین کی ٹیم ان کے ساتھ مصروف کار ہے۔ معاونین میں حاجی عثمان عمر ہاشمی صاحب، جناب یحییٰ میر صاحب، جناب محمد معظم میر صاحب، جناب عاصم صاحب، جناب محمد مبشر چیمہ صاحب، جناب قیصر صاحب، جناب طیب صاحب، ڈاکٹر عمران صاحب، جناب دلشاد صاحب، جناب زبیر صاحب اور جناب حاجی بشیر صاحب نمایاں ہیں۔

اکادمی کے شعبہ جات

درج ذیل شعبوں میں کام جاری ہے:
  • درجہ حفظ اور درس نظامی کی کلاسوں میں کم و بیش پچاس طلبہ اکادمی میں مقیم ہیں جن کے اخراجات کی کفالت اکادمی کے ذمے ہے۔
  • درس نظامی میں درجۂ اولیٰ کا کورس اور میٹرک کا نصاب تین سالوں میں پڑھایا جاتا ہے اور میٹرک کا امتحان گوجرانوالہ بورڈ سے دلوایا جاتا ہے جس میں طلبہ کی کارکردگی الحمد للہ ہر آنے والے سال میں گزشتہ سالوں سے بہتر ہوتی ہے۔ سال ۲۰۱۷ء میں اکادمی کے ہونہار طالب علم فرمان اللہ نے میٹرک کے امتحان میں ۹۲۵، اسامہ وارث نے ۸۹۳، عبد الرحمان نے ۸۲۲ اور کامران حیدر نے ۸۷۱ نمبر حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کے علاوہ اکادمی میں ابتدائی طلبہ کے لیے ایک بنیادی درجہ ہے جس میں طلبہ کو مڈل تک کا نصاب پڑھا کر میٹرک کرنے کی استعداد پیدا کی جاتی ہے۔
  • شعبان کے مہینے میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے دورۂ تفسیر قرآن کریم اور محاضرات علوم قرآن کا سلسلہ گزشتہ آٹھ سال سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
  • تعلیمی سال کے دوران دینی مدارس کے طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پہلے چند سال تحریری مقابلے کروائے گئے جبکہ گزشتہ تین سال سے کوئز مقابلے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جو کہ کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ ہر سال اس مقابلے کاموضوع طلبہ کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کیا جاتا ہے۔ یہ مقابلہ دو مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سال پہلے مرحلے کا موضوع ’’خلافت بنو امیہ‘‘ اور دوسرے مرحلے کا موضوع ’’خلافت بنو عباسیہ‘‘ تھا۔ پہلا مرحلہ ۱۱ جنوری ۲۰۱۸ء کو جبکہ دوسرا مرحلہ ۱۸ جنوری ۲۰۱۸ء کو منعقد ہوا جس میں شہر بھر سے مدارس کے طلبہ نے حصہ لیا اور بھرپور تیاری کا ثبوت دیا۔
  • اکادمی کی لائبریری میں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں جن سے دینی و عصری اداروں کے طلبہ و اساتذہ استفادہ کرتے ہیں۔
  • شعبہ نشر و اشاعت کے تحت مولانا زاہد الراشدی، مولانا عمار خان ناصر اور دیگر اہل قلم سے اب تک دو درجن کے لگ بھگ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
  • اکادمی کے زیر انتظام قائم کردہ درج ذیل ویب سائیٹس انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن سے دنیا بھر کے ہزاروں افراد استفادہ کرتے ہیں:
    www.hajjatulwada.com
    www.alsharia.org
    www.zahidrashdi.org
  • ماہنامہ الشریعہ کی اشاعت باقاعدگی کے ساتھ جاری ہے جو علمی حلقوں کے مطابق ملک کے علمی و تحقیقی جرائد میں معروف و ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
  • اکادمی میں علاقہ کے ضرورت مند افراد کے لیے فری ڈسپنسری روزانہ عصر سے عشاء تک کھلتی ہے جس سے اوسطاً ساٹھ مریض روزانہ استفادہ کرتے ہیں۔

جامع مسجد خورشید و مدرسہ طیبہ کوروٹانہ

کینال ویو کے عقب میں کوروٹانہ کے قریب شیخوپورہ کی طرف جانے والی سڑک پر کھیالی کے ایک مخیر دوست میاں ثناء اللہ جنجوعہ ایڈووکیٹ کے خاندان نے ایک ایکڑ زمین وقف کی ہے جہاں الشریعہ اکادمی کے تحت جامع مسجد خورشید و مدرسہ طیبہ کوروٹانہ کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتداءً حاجی محمد معظم میر کی نگرانی میں چند کمرے تعمیر کر کے قرآن کریم کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تاحال جاری ہے۔ جبکہ تعلیمی پروگرام کی توسیع کے لیے جامع مسجد خورشید اور چند کمروں پر مشتمل تعلیمی بلاک تعمیر کر لیا گیا ہے اور ان شاء اللہ رمضان کے بعد شروع ہونے والے تعلیمی سال سے وہاں باقاعدہ پڑھائی کا آغاز ہو جائے گا جبکہ منصوبے کے مطابق وہاں ابھی بہت سا تعمیری کام باقی ہے۔

علمی و فکری نشستیں / سیمینار

اکادمی میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکری موضوعات پر اہل علم کی نشستوں، سیمینارز اور تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں معروف ارباب علم و فکر اظہار خیال فرماتے ہیں۔ سال رواں منعقد ہونے والی نشستوں کی تفصیل حسب ذیل ہے:
  • ۲۲ دسمبر جمعۃ المبارک کو ’’دینی مدارس، عصری معنویت اور جدید تقاضے‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ماہان مرزا اور پروفیسر ابراہیم موسیٰ تھے۔
  • اسی طرح ایک پروگرام ’’دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج‘‘ کے عنوان سے ۱۴ نومبر ۲۰۱۷ء کو منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی مفتی محمد زاہد صاحب، مفتی حامد الحسن صاحب اور مولانا حماد الزہراوی صاحب تھے۔
  • اکادمی میں پندرہ روزہ فکری نشستوں کا سلسلہ بھی اپنے تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اس سال فکری نشستوں کا موضوع ’’سیرت النبی ﷺ اور انسانی سماج‘‘ تھا۔ جبکہ اس کے ذیلی عنوانات حسب ذیل ہیں:
    • سیرت النبیؐ اور انسانی حقوق
    • سیرت النبیؐ اور معاشرتی حقوق
    • سیرت النبیؐ اور عورتوں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور معاشی حقوق
    • سیرت النبیؐ اور غیر مسلوں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور بچوں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور مہمانوں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور مسافروں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور افسروں کے حقوق
    • سیرت النبیؐ اور حاکموں کے حقوق
  • دورۂ تفسیر قرآن کریم

    ۶ شعبان العظم ۱۴۳۹ھ مطابق ۲۲ اپریل ۲۰۱۸ء بروز اتوار سے سالانہ دورۂ تفسیر قرآن کریم و محاضرات قرآنی کا انعقاد کیا گیا جو ۲۷ شعبان بمطابق ۱۴ مئی تک جاری ہے جس میں:
    • حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب نے سورۃ فاتحہ، البقرہ آل عمران، النساء اور آخری پارہ کی تفسیر پڑھائی۔
    • مولانا فضل الہادی صاحب نے سورۃ الاعراف، الانفال، التوبہ، ارض القرآن، جغرافیہ کے تحت آنے والی سورتوں کی تفسیر پڑھائی۔
    • مولانا ظفر فیاض صاحب مدرس جامعہ نصرۃ العلوم نے سورۃ یونس، رعد، ابراہیم، النحل، بنی اسرائیل اور الحج کی تفسیر پڑھائی۔
    • جبکہ قرآن کریم کے باقی حصوں کی تدریس سینئر و ماہر اساتذہ مولانا محمد یوسف صاحب، مولانا عمار خان ناصر صاحب اور مولانا وقار صاحب نے پڑھائی۔
    • اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر محاضرات بھی ہوئے جن میں مولانا فضل الہادی صاحب نے ’’ارض القرآن‘‘ کے موضوع پر مولانا احسان الحق نے ’’مشکلات القرآن‘‘ کے موضوع پر، مولانا وقار و مولانا اورنگزیب اعوان نے ’’امام شاہ ولی اللہؒ سے مولانا عبید اللہ سندھیؒ تک‘‘ کے موضوع پر، مولانا عبد الرشید نے ’’اصول تحقیق‘‘ کے موضوع پر، مولانا محمد عثمان اور مولانا محمد سرور نے ’’کیریئر کونسلنگ‘‘ کے موضوع پر، پروفیسر محمد اکرم صاحب نے ’’استشراق‘‘ کے موضوع پر اور مولانا منیر احمد علوی صاحب نے ’’ختم نبوت و قادیانیت‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیے۔

    الشریعہ اکادمی کی ضروریات

    • ماہانہ اخراجات (تعمیر کے علاوہ) کم و بیش دو لاکھ روپے ہیں جو صرف مخیر حضرات کے تعاون سے پورے ہوتے ہیں۔
    • اکادمی کی بالائی منزل کی تعمیر باقی ہے۔
    • مسجد خدیجۃ الکبریٰ اور تعمیر شدہ تعلیمی بلاک کی بہت سی ضروریات نامکمل ہیں۔
    • دورۂ تفسیر کے انتظامات پر مجموعی اخراجات تقریباً چار لاکھ روپے ہوتے ہیں۔
    • مدرسہ طیبہ میں تعلیمی پروگرام شروع کرنے سے پہلے کے تمام انتظامات ابھی باقی ہیں۔
    • اکادمی میں رہائش پذیر طلبہ کے لیے زکوٰۃ، عشر، عطیات و صدقات اور دیگر مدات سے تعاون کی ضرورت ہے۔
    اصحاب خیر سے درخواست ہے کہ ان ضروریات کی تکمیل کے لیے اکادمی کا ہاتھ بٹائیں اور زکوٰۃ، عشر، صدقہ، غلہ، تعمیری سامان اور دیگر مناسب صورتوں میں تعاون فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ جزاکم اللہ تعالیٰ و احسن الجزاء

    برائے رابطہ و معلومات

    محمد عمار خان ناصر (ڈپٹی ڈائریکٹر) 0300-4949823
    حافظ محمد عثمان (ناظم) 0301-5797737
    جناب عثمان عمر ہاشمی (رکن انتظامیہ) 0334-4273435
    جناب محمد معظم میر (رکن انتظامیہ) 0333-8113926

    ترسیل زر

    درج ذیل اکاؤنٹ میں براہ راست رقم جمع کروا کر منتظمین کو اطلاع کی جا سکتی ہے:
    اکاؤنٹ Alsharia
    کرنٹ اکاؤنٹ نمبر 06820012601403
    بینک HBL (G.T. Road Branch) Gujranwala
    سِوفٹ کوڈ HABBPKKA682
قرآن / علوم قرآن
حدیث و سنت / علوم الحدیث
اسلامی شریعت
دین و حکمت
سیرت و تاریخ
فقہ / اصول فقہ
دین اور معاشرہ
اسلام اور عصر حاضر
عالم اسلام اور مغرب
اسلامی تحریکات اور حکمت عملی
جہاد / جہادی تحریکات
اسلام اور سیاست
پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل
مسلم مکاتب فکر ۔ باہمی مکالمہ
نقد و نظر
آراء و افکار
تعلیم و تعلم / دینی مدارس
مسلم مفکرین
شخصیات
حالات و واقعات
حالات و مشاہدات
مشاہدات و تاثرات
الشریعہ اکادمی
اخبار و آثار
مکاتیب
ادبیات
تعارف و تبصرہ
امراض و علاج