علمأ فتوٰی مانگنے والوں کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ حالات حاضرہ کے شعور کی روشنی میں قرآن و حدیث` ائمہ اربعہ و دیگر فقہأ کی آرأ پر ممکنہ وسعتوں کے ساتھ مفصل فتاوٰی دیے جا سکیں- فتوٰی دینے والوں کی سب سے بڑی ضرورت غیر درسی کتب کا مسلسل اور کثرت سے مطالعہ ہے تاکہ اسلام کی یہ تصویر کے وہ آسانیوں کا مذہب ہے` دنیا کے سامنے لائی جا سکے اور جس حد تک بھی کسی مسئلے میں شرعی حدود میں وسعت ممکن ہو` فتاوٰی میں وسعت دینی چاہیے- (آرا و افکار)
ماہنامہ الشریعہ
جلد 21 شمارہ نمبر 7 جولائی 2010
قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟
رئیس التحریر

فتاوٰی کے اجرا میں احتیاط کی ضرورت
حکیم ظل الرحمٰن

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ (٢)
مولانا مفتی محمد زاہد

حزب اللہ کے دیس میں (١)
محمد عمار خان ناصر

قادیانی مسئلہ
خورشید احمد ندیم

سرسید خان کی تفسیری تجدد پسندی (٢)
ڈاکٹر محمد شہباز منج

ایک تحریک بغاوت کی ضرورت
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

تعارف و تبصرہ
تبصرہ نگار : پروفیسر میاں انعام الرحمٰن


الشریعہ کی ای میل لسٹ میں شامل ہوں

Email Address